147

اکیلے ساجد خان نے میچ کو زندہ کر دیا’

پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش

اکیلے ساجد خان نے میچ کو زندہ کر دیا’

بعض اوقات حماقت اُس درجے تک جا پہنچتی ہے جہاں یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ واقعی کوئی انسانی دماغ بھی اس قدر کوڑھ ہو سکتا ہے؟ لیکن دراصل یہ حماقت اس وقت انسانی عقل کے اختیار سے باہر ہو چکی ہوتی ہے کیونکہ وہاں حماقت پہ اُکسانے والا اپنے فن کی معراج پہ ہوتا ہے۔
ساجد خان بھی یہاں اپنے فن کا کمال دکھا رہے تھے اور کسی بھی بلے باز کے پاس ان کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔
حالانکہ، غیر حتمی اور غیر سرکاری ‘نتائج’ کے مطابق یہ ٹیسٹ میچ تقریباً ڈرا ہو چکا تھا۔ جہاں لگ بھگ تین دن کا کھیل بارش کی نذر ہو چکا ہو اور پہلی اننگز کا ابھی نصف بھی مکمل نہ ہوا ہو تو وہاں کون بھلا کسی نتیجے کی توقع رکھ سکتا ہے؟
مگر بابر اعظم کا خیال کچھ اور تھا۔

وکٹ لینے کے بعد ساجد خان کا انداز

بابر اعظم کو معلوم ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا دو سالہ سائیکل مکمل ہونے پہ جب رپورٹ کارڈ مرتب ہو گا تو وہاں اگر بنگلہ دیش کے خلاف بھی کوئی ڈرا ان کے کھاتے میں نکل آیا تو یہ نہایت مایوسی کی بات ہو گی اور چیمپئن شپ فائنل کھیلنے کا خواب بھی شاید خواب ہی رہ جائے۔
جبھی بابر نے تین سو کا نفسیاتی ہندسہ پورا ہوتے ہی اننگز ڈکلیئر کر دی اور مومن الحق کی ٹیم کو موقع دیا کہ وہ یہاں سے ٹیسٹ ڈرا کر کے دکھائیں۔ اگر جیت کی امید یا شکست کا خوف سر پہ سوار نہ ہو تو اتنے کم وقت میں ڈرا کرنا کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے۔
بنگلہ دیش کے لیے یہ تو طے تھا کہ وہ کسی بھی صورت یہاں سے میچ جیتنے کی حیثیت میں نہیں تھے۔ پاکستان کا مجموعہ برابر کرتے کرتے ہی شاید پانچویں دن کے دو سیشن گزر جاتے اور کل سہ پہر مومن الحق اور بابر اعظم ہاتھ ملا کر میچ ختم کر دیتے۔
لیکن بابر اعظم جانتے تھے کہ اگر اس بارش زدہ وکٹ پہ ابر آلود کنڈیشنز میں نیا گیند شاہین شاہ آفریدی کو تھما دیا گیا تو وہ نوآموز بنگلہ دیشی ٹاپ آرڈر کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیں گے۔ اور پھر شاہین کا پہلا اوور تھا بھی ایسا کاٹ دار، کہ شادمان اسلام کےکچھ بھی پلے نہ پڑا۔
مگر کہانی میں ٹوئسٹ ایک بار پھر موسم نے ڈالا اور دھندلاتی روشنی میں پیسرز کے لیے بولنگ کرنا ناممکن ٹھہرا۔ بابر اعظم کے پاس اختیار تھا کہ وہ سپنرز کو استعمال کرتے یا پھر روشنی کی صورتحال بہتر ہونے کا انتظار کرتے۔
چونکہ روشنی بہتر ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا، سو بابر اعظم نے نعمان خان اور ساجد علی سے اٹیک کروا دیا۔ اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ بنگلہ دیشی بیٹنگ پاکستانی سپنرز کی بجائے پیسرز سے خائف تھی۔ اب یہاں سبھی عوامل بنگلہ دیش کی طرف داری کر رہے تھے۔

اسی بدلاؤ کے بیچ بنگلہ دیشی بلے بازوں نے خوف کی زنجیریں توڑنے کا سوچا اور پاکستانی سپنرز پہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ سوچنے کی بات یہ تھی کہ بالفرض پاکستانی سپنرز دباؤ میں آ بھی جاتے تو اس سے بنگلہ دیش کو کون سا مختلف نتیجہ مل جاتا؟
مگر جب بنگلہ دیشی بلے بازوں نے ساجد خان کے خلاف بازو کھولنا چاہے تو وہ ان کی توقع سے زیادہ چست نکلے۔ سپنرز کے لیے عموماً نیا سرخ گیند کچھ خاص کارآمد ثابت نہیں ہوتا کیونکہ سیم سخت ہونے کی وجہ سے اس میں سپن کا زیادہ امکان نہیں ہوتا۔

لیکن ساجد نے زیادہ سپن کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ انھوں نے یہی سیم استعمال کر کے اپنی فلائٹ سے باؤنس پیدا کیا اور بنگلہ دیشی بلے بازوں کے سبھی منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ حالانکہ میچ کی ایسی صورت حال میں، دفاعی ذہنیت کے ساتھ، سپنر کو بیک فٹ پہ کھیلنا ایسا مشکل بھی نہیں ہوتا مگر ساجد خان جس طرح کا باؤنس اور ‘ڈرفٹ’ پیدا کر رہے تھے، یہاں بلے بازوں کا چکرا جانا بےجا نہیں تھا۔
شانتو نے سیدھے بلے سے انھیں دفاعی انداز میں کھیلنے کی کوشش کی مگر کئی بار گیند بلے کے ‘شولڈر’ کو چھو کر نکل گیا۔ اور ساجد کی اس مہارت نے سبھی بلے بازوں کو شبہات میں ڈال دیا۔
جبھی بنگلہ دیشی بلے بازوں نے ‘خول’ سے نکل کر ساجد خان کے خلاف جارحیت اپنانے کا سوچا تا کہ ان کی لائن و لینتھ تھوڑا گڑبڑائے اور کہیں اعتماد ڈگمگائے۔
لیکن جب بھی کوئی ‘ہائی بیک لفٹ’ کے ساتھ ساجد کے سامنے آیا، ان کی ‘ڈرفٹ’، ‘فلائٹ’ اور غیر متوقع باؤنس اس کے گلے پڑتا گیا۔ رہی سہی کسر مومن الحق کے رن آؤٹ نے پوری کر دی اور چوتھی شام کا کھیل تمام ہونے تک عالم یہ ہے کہ بنگلہ دیش بآسانی میچ ہارنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے اور پاکستان بآسانی میچ جیتنے کی پوزیشن میں۔
کون یقین کر سکتا ہے کہ ساڑھے تین دن تک بے جان رہنے والے میچ میں صرف ایک آف سپنر کے جادو نے پھر سے جان ڈال دی ہے!

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں