13

پاکستان کا چین سے 12 ارب ڈالر کا HQ-19 میزائل شیلڈ معاہدہ،

پاکستان کا چین سے 12 ارب ڈالر کا HQ-19 میزائل شیلڈ معاہدہ، خطے میں دفاعی توازن بدلنے کا امکان

نیوز ڈیسک(9نیوز) اسلام آباد

Rahim khattak crime reporter
رحیم خٹک: چیف ایڈیٹر 9نیوز انٹرنیشنل

جدید اینٹی بیلسٹک سسٹم کی ممکنہ خریداری، بھارت کی میزائل حکمتِ عملی اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک ماحول پر گہرے اثرات متوقع

اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے چین کے جدید ترین اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم HQ-19 کی ممکنہ خریداری کو جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ کے اہم ترین دفاعی معاہدوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کے اس ممکنہ معاہدے کو خطے میں دفاعی اور ایٹمی توازن تبدیل کرنے والی بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو بھارت کی میزائل حکمتِ عملی پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

دفاعی رپورٹس کے مطابق HQ-19 ایک جدید exo-atmospheric میزائل دفاعی نظام ہے جو بیلسٹک میزائلوں، ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ہتھیاروں کو فضا کی بلندی پر ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ نظام پاکستان کے دفاعی نیٹ ورک کا حصہ بنتا ہے تو یہ بھارتی میزائل حملوں کے خلاف ایک مضبوط دفاعی تہہ فراہم کرے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف HQ-19 سسٹم تک محدود نہیں بلکہ چین کے جدید J-35A اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں اور KJ-500 ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم کے حصول پر بھی غور کر رہا ہے۔ ان تمام سسٹمز کے امتزاج سے پاکستان ایک مربوط “کِل چین” دفاعی ڈھانچہ تشکیل دے سکتا ہے، جس کے ذریعے نگرانی، حملہ اور دفاعی صلاحیتوں کو ایک مرکزی نیٹ ورک میں مربوط کیا جا سکے گا۔

جون 2025 میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق چین نے وزیراعظم شہباز شریف کے دفاعی تعاون پروگرام کے تحت HQ-19 سسٹم کی باضابطہ پیشکش کی تھی، جس کے بعد اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف بھارت بلکہ امریکہ کے لیے بھی ایک اہم جیوپولیٹیکل اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات میں تیزی بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ کشیدگی کے بعد آئی، جس دوران بھارت نے براہموس سپرسونک کروز میزائل اور دیگر لانگ رینج ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ان واقعات نے مبینہ طور پر پاکستان کے موجودہ فضائی دفاعی نظام، خصوصاً HQ-9B نیٹ ورک، کی بعض کمزوریوں کو بھی نمایاں کیا۔

رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی اہلکار چین میں اس سسٹم کی تربیت حاصل کر رہے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی ڈھانچے، تعیناتی کے مقامات اور مرحلہ وار شمولیت کے معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ تاہم مغربی دفاعی اداروں کی جانب سے ابھی تک اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر HQ-19 پاکستان میں تعینات ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کا فضائی دفاع مضبوط ہوگا بلکہ چین کے علاقائی نگرانی نظام کا دائرہ اثر بھی بحرِ ہند تک وسیع ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون مزید گہرا ہونے کا امکان ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صرف ایک دفاعی خریداری نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ایرو اسپیس شیلڈ کی بنیاد بن سکتا ہے، جو جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے گا اور بھارت کی فضائی و میزائل برتری کو چیلنج کرے گا۔

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں