6

پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ، اپریل میں شرح تقریباً 11 فیصد تک پہنچ گئی، شہری مزید معاشی دباؤ کا شکار

پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ، اپریل میں شرح تقریباً 11 فیصد تک پہنچ گئی، شہری مزید معاشی دباؤ کا شکار

اسلام آباد: پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اپریل کے دوران سالانہ بنیادوں پر افراطِ زر (Inflation) تقریباً 11 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پہلے سے معاشی مشکلات کا شکار عوام پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔

سرکاری اور معاشی ذرائع کے مطابق اپریل میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مجموعی اضافہ دیکھا گیا، جس میں خوراک، بجلی، گیس، ایندھن اور روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شہریوں کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں روپے کی قدر میں کمی، درآمدی اخراجات میں اضافہ، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے مسائل شامل ہیں۔ ان عوامل کے باعث مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

شہریوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنخواہوں اور آمدنی میں اضافہ نہ ہونے کے باعث گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف معاشی اقدامات زیر غور ہیں، جن میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر نظر رکھنا اور سپلائی نظام کو بہتر بنانا شامل ہے۔

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں