معصوم بچے اپنے والد مقتول نوازش کی قبر پر انصاف کے منتظر
نیوز ڈیسک(9نیوز) اسلام آباد
میرٹ پر نوازش قتل کیس کی تفتیش انسپکٹر سہیل کو مہنگی پڑ گئی
ورثاء کی چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کی اپیل کر دی، انسپکٹر سہیل اعوان نے معصوم بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو انصاف ضرور ملے گا ۔
تھانہ بہارہ کہو میں درج مقدمہ نمبر 249/22 نوازش قتل کیس کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی گئی ۔
ملزمان کو بیگناہ کرنے میں سابقہ تفتیشی افسر نے بھرپور کردار ادا کیا
مدعی مقدمہ کی تفتیش تبدیلی کی درخواست پر انسپکٹر سہیل اعوان نے نئے سرے سے تفتیش شروع کی تو حالات واقعات مشکوک پاۓ گئے ۔
نوازش قتل کیس میں بااثر افراد کی سفارشات خاطر میں نہ لائی۔دوران تفتیش پانچ ملزمان کو ٹھوس شوائد پر گرفتار کیا جن کے انکشاف پر مزید بااثر افراد کی گرفتاریاں مطلوب تھی ۔
انسپکٹر سہیل اعوان کی ایمانداری سمیت قابلیت کی مثالیں خود اسلام آباد پولیس دیتی ہے. آئی جی اسلام آباد کی طرف سے سندھ تبادلہ کرنا سوالیہ نشان بن گیا ۔
غریب ورثاء کے مطابق انسپکٹر سہیل اعوان کو صرف نوازش قتل کیس تفتیش سے ہٹانے کیلئے تبادلہ کیا گیا جس کے بعد اب ہمیں اسلام آباد پولیس سے انصاف کی توقع نہیں بااثر ملزمان کی طرف سے دھمکیاں مل رھی ہیں
چیف جسٹس آف پاکستان نوازش قتل کیس پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے نوازش قتل میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلوانے میں خاص کردار ادا کریں تاکہ پاکستان میں انصاف کا مہیار قائم رھے








