آئی جی خیبرپختونخوا پولیس کا ملک سعد شہید پولیس لائن کا دورہ
نیوز ڈیسک (9نیوز) پشاور

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے آج ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں پولیس انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر مبنی جدید سہولیات اور تقاضو ں سے ھم آہنگ متعدد منصوبوں کا افتتاح کیا.
چیف کیپٹل سٹی پولیس پشاور اور پشاور کے اعلیٰ پولیس حکا م اس مو قع پر موجود تھے ۔ آئی جی پی نے پشاور کے اعلیٰ افسران کے ایک اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں پشاور میں دیرپا امن و آمان کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات اور درپیش چیلنجوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں آئی جی پی کو ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ کے فروغ کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ واضح رہے کہ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد پولیس فورس کا استعدادکار بڑھا نے اور انہیں بہتر حالا ت کار فراہم کرنا ہے ۔
تاکہ وہ ہر قسم کے مسائل و مشکلات سے بے نیا ز ہو کر اپنے پیشہ ورانہ فرا ئض وابستہ توقعا ت کے مطابق ادا کر سکیں ۔نئے تعمیر شدہ/ تزئین شدہ پراجیکٹس میں سیلولرکانفرنس روم فورانزک یونٹ (CFU) اور ایڈمنسٹریشن بلاک شامل ہیں۔
پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور تفتیش کے عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے نئے سافٹ وئیر ایپلیکیشنز متعارف کئے گئے ہیں۔آئی ایم ای آئی ریکا رڈ مینجمنٹ سسٹم (IRMS ) چور ی شدہ اور گم شدہ مو با ئل ڈیٹا پر مشتمل ہے جسمیں ٹر یس شدہ اور ان ٹریس شدہ کسیز کا ریکارڈ دستیاب ہے۔IRMS کی پولیس اور موبائل فروخت کرنے والے دکانداروں کو رسائی حاصل ہے۔
تاکہ چوری شدہ اور برآمد شدہ موبائل فونز کے بارے میں عوام کو معلومات فراہم کی جاسکیں۔سی ڈی آر (CDR) اینالائیزر کے نئے سافٹ وئیر کو بھی متعارف کردیا گیا جس کے ذریعے کیسز کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے باآسانی حل کیا جاسکے گا۔ پولیس نے پہلی بار اپنے کریمنل ریکارڈ کو جیل ڈیٹابیس کے ساتھ جیل ڈیٹا ریکارڈ ایپلیکیشن (JDRA) کے ذریعے منسلک کردیا ہے۔
سبسکرائبر انفوایپلیکیشن (SIA) کو بھی پولیس فورس کو آپریشنز اور انوسٹی گیشن میں آسانی پیدا کرنے کے لیے متعارف کردیا گیا جس کے ذریعے پولیس کو تمام لوگوں اور خصوصاً ملزمان کے زیر استعمال موبائل فونز کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب ہوں گی۔ SIA ایپ کے ذریعے پورے پاکستان کے سبسکرائبرز کی معلومات تک رسائی حاصل ہوگی۔
پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم (PSRMS) میں درج شدہ ایف آئی آرز، نامزد ملزمان، درج شدہ روزنامچوں اور چالان شدہ کیسوں سے متعلق معلومات موجود ہیں۔ آئی جی پی معظم جاہ انصاری نے تختی کی نقاب کشائی کے ذریعے ایڈمنسٹریشن بلاک اور CFUکا افتتاح کیا۔ آئی جی پی ایڈمنسٹریشن بلاک کے مختلف سیکشنز میں گئے جہاں انہیں متعلقہ سیکشن کے فرائض کی نوعیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
آئی جی پی نے CFU کے انچارج سے ان کے فرائض کے اسٹیڈنگ آپریٹنگ پروسیجر ، کیسوں کی تعداد اور طریقہ کار کے بارے میں دریافت کیا۔ انچارج نے اعداد و شمار کیساتھ آئی جی پی کو تفصیلی معلوماتی بریفنگ دی۔
اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے آئی جی پی نے پشاور پولیس کے نئے اقدامات اور ٹیم ورک کو سراہا۔
آئی جی پی نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ وقت کی اہم ضرورت ہے اور پولیسنگ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے مطلوبہ اہداف کو آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ ان منصوبوں کے ذریعے اسٹریٹ کرائم پر خصوصی توجہ دے کر آن لائن مانیٹرنگ کی جائیگی۔
جس سے جرائم کی روک تھام اور عوام کی پولیس پر اعتمادسازی میں مدد ملے گی۔ آئی جی پی نے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات اور تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو تیار کرنا ہر جگہ ہر وقت جاری رہتا ہے۔ اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیس کے اوقات اور حالات کار بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔








