246

ہمارا معاشرہ اور ایک عورت

ہمارا معاشرہ اور ایک عورت

تحریر: بلال ناصر کھرل

الحمداللہ ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں جہاں عورت کو قابل احترام سمجھا جاتا ہے اور مردوں کے شانہ بشانہ ترقی کے مواقع مہیا کیے جاتے ہیں مگر اسی معاشرے میں کچھ انسان نما دریندے بھی ہیں جو عورت کی عزت نفس کو پامال کرنے کے مواقع تلاش کرتے رہتے ہیں۔عورت کو کبھی حراساں کرتے ہیں اور کبھی تشدد کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ عورتوں کے حقوق اور ان کی اہمیت سے ناواقف ہیں ایسے لوگ عورت کو اللہ کی بے بس مخلوق سمجھتے ہیں درحقیقت عورت اللہ کی بہترین تخلیق ہے۔

ایک مسلمان کی حیثیت سے عورت کو اسلام میں اعلی اہمیت حاصل ہے اسلام میں مرد اور عورت کو برابر کے حقوق حاصل ہیں تعلیم ایسا زیور ہے،
جو نہ تو کوئی چھین سکتا ہے اور نہ کوئی چوری کر سکتا ہے تعلیم وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ایک عورت نہ صرف معاشرے میں بلکہ معاشرتی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے اپنا سکہ منوا سکتی ہے،
پاکستان ایک خودمختار اسلامی ریاست ہے پاکستان کے پسماندہ اور دیہاتی علاقوں مثلا سندھ، بلوچستان اور کے پی کے میں عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جاتا ہے پنجاب کی نسبت ان علاقوں میں تعلیم کا معیار کم ہے جو کہ عورتوں پر مظالم اور تشدد کا سبب بنتا ہے ایکٹ 1934 میں عورتوں کے لیے ایک خاص آرٹیکل تشکیل دیا گیا جس میں عورتوں کو مظالم ،تشدد اور تنگ نظری سے محفوظ کیا گیا اور اس کے بعد اور بھی کہی ایکٹ تشکیل تو دیئے لیکن عمل کم ہی ہوا ۔
قانون کے ذریعے یہ لازم کیا جائے کہ عورتوں کو روزگار اور ترقی کے مواقع مردوں کے برابر دیے جائیں۔سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے عورتوں کو زندگی کے ہر شعبے میں بڑھنے کا حوصلہ دیا جائے۔

9news
Follow
Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں