493

پنجاب پولیس کے سابق افسران کی کرپشن کی بڑی داستان، اکاؤنٹنٹ وعدہ معاف گواہ بن گیا

سابق ڈی پی اوز کی کرپشن کا بھانڈ اپھوٹ گیا، اکاؤنٹنٹ وعدہ معاف گواہ بن گیا

ویب ڈیسک (9نیوز) اسلام آباد

کرپشن کی بڑی بڑی داستانیں آپ نے سن رکھی ہوں گی مگر عوام کے ٹیکس کا پیسہ کس طرح بے دریغ طریقت سے خرچ کیا جاتا رہا ہے جان کر آپ حیران ہوں گے کہ ہمارے محافظ پنجاب پولیس کے افسران کے خلاف سرکاری فنڈز کی خردبرد کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔

ڈی پی اوز فنڈز خوردبرد کیس میں اکاونٹنٹ رضوان اشرف وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے اور ان سے نیب کی حراست میں حیران کن انکشافات کر دیئے ہیں۔

رضوان اشرف نے الزام لگایا کہ رائے اعجاز 12لاکھ پٹرول کی مد میں بطور رشوت ماہانہ وصول کرتے رہے۔ پٹرول کی مد میں ماہانہ 12لاکھ روپے ایم ٹی او اختر شاہ کے ساتھ مل کر قومی خزانے سے نکالتے رہے۔ رائے اعجاز نے بھائی کی شادی میں 40لاکھ روپے کے تحائف قومی خزانے سے ادا کیے۔

رضوان نے یہ بھی بتایا کہ رائے اعجاز آسٹریلیا میں بیگم کو سرکاری خزانہ سے ماہانہ خرچہ بھیجتے تھے۔ رائے اعجاز ملتان میں ایک خاتون کو سرکاری خزانے سے اسی کے ہاتھوں پیسے بھجوایا کرتے تھے۔

اکاؤنٹنٹ رضوان اشرف کے مطابق رائے ضمیر 28لاکھ روپے ماہانہ پٹرول کی مد میں وصول کیا کرتے تھے۔

رضوان نے یہ بھی بتایا کہ گجرات کے نجی ہوٹل میں رقص وسرور کی محفلیں قومی خزانے سے سجائی جاتی رہیں۔ شہدا کے فنڈز، پولیس انوسٹی گیشن فنڈز اور ریٹائرمنٹ فنڈز میں سے خوردبرد کی گئی۔ گانا بجانے والوں کو قومی خزانے رقوم اسی کے ذریعے منتقل کی گئیں۔ رائے ضمیر سابق آئی جی شوکت جاوید کو 50ہزار ماہانہ قومی خزانے سے ادا کرتے رہے۔

وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد رضوان نے یہ بھی بتایا کہ سابق ڈی پی او گجرات سہیل ظفر چٹھہ کو 3ماہ میں 68لاکھ روپے قومی خزانے سے ادا کیے گئے۔ گجرات میں سہیل ظفر کے اہل خانہ نے ہوم اپلائنسز کی دکان سے 11لاکھ کی الیکٹرانک اشیا ایک دن میں خریدیں۔

سہیل ظفر چٹھہ نے سابق ڈی آئی جی احمد مبارک کو سرکاری گاڑیاں الاٹ کیے رکھیں۔ سہیل ظفر چٹھہ کے بھائی کو ڈیڑھ لاکھ ماہانہ، بیوی کو دو لاکھ ماہانہ اور خود دو لاکھ روپے ماہانہ جیب خرچ وصول کرتے رہے۔

یہ پیسے گجرات سے پنڈی بھٹیاں لائے جاتے، بنکوں میں منتقل کے جاتے اور زرعی انکم ظاہر کی جاتی۔ سہیل ظفر نے 25سے 30لاکھ ذاتی گھر کی تزین و آرائش پر لگائے۔

کامران ممتاز 3مہینے ڈی پی او رہے اس دوران میں نے انکو بھی 25لاکھ روپے ادا کیے۔ کامران ممتاز کی بیوی کو 50ہزار روپے ماہانہ قومی خزانے سے ادا کیے۔ اے سی گجرات نورالعین کو پولیس کی گاڑی بطور سیکورٹی دی گئی۔ معروف مہنگی کافی شاپ پر پارٹیز پر اخراجات بھی پولیس فنڈ سے ادا کیے گئے

سہیل ظفر نے امریکہ میں ویزا فیس کا 2لاکھ 60 ہزار بھی پولیس فنڈ سے ادا کی۔ رائے اعجاز نے دھرنے کی آڑ میں کنٹینرز پکڑنے کی مد میں 21لاکھ روپے بل پولیس فنڈ سے ہڑپ کیا۔ ڈی پی او سہیل ظفر اور کامران ممتاز ہر بل پر جعلی دستخط کرتے رہے۔وعدہ معاف گواہ رضوان کے مطابق یہ شخصیات جعلی دستخط کرنے کی ماہر ہیں۔

24نومبر 2016کو سہیل ظفر نے مجھ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ مجھے روپوش ہونے کیلئے کہا گیا۔ میری جان بخشنے کیلئے بھی 45لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ میری اور اکاونٹ برانچ کے رمیض کی پراپرٹی بھی جعل سازی سے بیچی گئی۔

رائے ضمیر نے پولیس ویلفئیر ہسپتال کے نام پر گجرات کے شہریوں سے 3کروڑ 27لاکھ روپے ہتھیائے۔ نیب لاہور، پنجاب پولیس کے افسران کے خلاف گجرات، ساہیوال اور شیخوپورہ ریجن میں حکومتی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچانے کے کیسز کی تحقیقات کر رہا ہے۔ صرف گجرات میں پولیس افسران نے خزانے کو70 کروڑ کی مبینہ کرپشن کے ذریعے نقصان پہنچایا۔

سابق ڈی پی او گجرات رائے اعجاز سمیت کامران ممتاز گرفتار ہوئے جبکہ سابق ڈی پی او رائے ضمیر تاحال مفرور ہیں۔ سابق ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ قبل از گرفتاری ضمانت پر ہیں۔

9news
Follow
Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں