600

میجر لاریب قتل کیس، موقع پر موجود لڑکی گرفتار

مونا خان نامہ نگار اردو انڈیپنڈنٹ

پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد کے علاقے کراچی کمپنی میں فوج کے ایس ایس جی کمانڈو میجر لاریب حسن گِل کے قتل کے وقت وہاں موجود علینہ نامی لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے علینہ کو سول جج ثاقب جواد کی عدالت میں پیش کر کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

میجر لاریب حسن جن کا تعلق پاکستان ملٹری اکیڈمی 122 لانگ کورس سے تھا(تصویر۔قریبی دوست)

علینہ نامی خاتون نے پولیس کو اپنے پہلے بیان میں بتایا کہ ’ڈکیتی کی غرض سے آنے والوں نے میجر لاریب پر حملہ کیا جب میں اور میجر لاریب پارک میں بیٹھے تھے۔‘

انھوں نے پولیس کو بتایا کہ ’دو افراد ڈکیتی کی غرض سے ہمارے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ ایک شخص کے پاس پسٹل بھی تھا انہوں نے ہم سے جو کچھ بھی ہے نکال دینے کا کہا میجر لاریب نے زرا توقف کیا تو انہوں نے لاریب کے منہ پر لات ماری اور میجر لاریب پر پسٹل سے فائر کر دیا۔‘

علینہ کے مطابق ان کے میجر لاریب کے ساتھ خاندانی تعلقات تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق علینہ دو روز قبل میجر لاریب حسن کے قتل کے وقت موقع پر موجود تھیں۔ پولیس نے تفتیش کا دائر کار وسیع کرتے ہوئے علینہ کو گرفتار کیا ہے۔

اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن میں جمعرات کی شب دس بج کر دس منٹ پر گرین بیلٹ کے قریب واقع پارک میں یہ واقعہ پیش آیا تھا جسے بظاہر موبائل چھیننے کا واقعہ بیان کیا گیا، جہاں مزاحمت کرنے پر پاکستانی فوج کے ایس ایس جی کمانڈو میجر لاریب حسن گِل کو نامعلوم افراد نے سر پر گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

اعلیٰ پولیس حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ میجر لاریب کا قتل حادثہ نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وقوعے کے وقت میجر کے ساتھ موجود خاتون کے بیان کی روشنی میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مزید تفتیش کے لیے خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں