
حمزہ احمد صدیقی
لاہور
کہا گیا ہے کہ:”جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہوجاۓ وہاں دو چیزیں سستی ہوجاتی ہیں،
عورت کی عزت اور مرد کی غیرت”۔
آج ہمارے معاشرے کی صورتِ حال بھی کچھ ایسی ہی ہے، صد افسوس کہ عورت کا استحصال تو کیا جاتا تھا ہی مگر آج معاشرے کی بگڑتی صورتِ حال میں ہمارے بچے بھی درندوں کی ہوس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جنسی زیادتی کے روز بروز بڑھتے ہوٸے واقعات کے پیش نظر حکومتِ وقت کی جانب سے سخت ترین اقدامات کے بلند و بالا دعوے کیے گٸے۔ حکومتی اراکین کی جانب سے نامرد بنانے کی سزا کو خاصی مقبولیت حاصل رہی۔ سزا جو بھی ہو سوال یہ ہے کہ کیا یہ سزا ان واقعات کی روک تھام کے لیے کافی ہے؟ کیا ان سزاٶں کے قانون کے بعد جنسی زیادتی کے واقعات ختم ہو جاٸیں گے؟ یا پھر یہ سب کچھ پاکستان کو ایک نٸے دلدل میں دکھیل دے گا۔۔۔
اسلام اور اس کے قانون میں موجود تمام سزاٸیں اپنی افادیت رکھتی ہیں، مگر جذبات معاملات کے حل کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے کسی بھی شخص پر فتوے جاری نہیں کیے جاسکتے۔ ان سزاٶں کی مخالفت کرنے والے تمام وزراء اور مخالفين کو شدید تنقید کا سامنا رہا اور بیشتر خود ساختہ علماء کی جانب سے اسلام دشمنی، کفر کے فتوے اور اسلامی سزاٶں سے منحرف ہونے سمیت ریپسٹ کی سر پرستی تک کا الزام رہا ہے۔
کیا اسلام بنیادی وجوہات کو نظر انداز کرتے ہوٸے سزا سناتا ہے؟ کیا اگر دو دن کا بھوکا روٹی چوری کرتا ہے تو اسکے ہاتھ کاٹ دیے جاتے ہیں؟ میرا مقصد جنسی زیادتی کے مجرموں کی حمایت نہیں، مگرکیا ان محرکات اور وجوہات کو جانے اور ختم کیے بغير، جو ان تمام کیسسز کی اصل جڑ ہیں، صرف سزاٶں سے ان واقعات کی روک تھام کی جا سکتی ہے؟ میرے نزدیک یہ ایک نہایت ہی احمقانہ سوچ ہے کہ سزا و جزا کا قانون کسی بھی جرم کے خاتمے کے کے لیے کافی ہے۔
سوشل میڈی پر پھیلی بے حیاٸی، نیٹ پر موجود فحش فلمیں، گلیوں اور بازاروں پر لگے نیم برہنہ خواتين کی تصاویر والے ساٸن بورڈز، فلموں ڈراموں میں چلنے والی عشق کی بے ہودہ کہانیاں اور اشتہارات سیمت یہ وہ تمام عناصر ہیں جو جنسی جذبات کے اُبھار اور پھر جنسی زیادتی جیسے جرم کا سبب بنتے ہیں۔
دو روپے کی ٹافی ہو یا چند ہزار کا موباٸل فون، چاٸے کی پتی کی ہو یا دودھ کے ڈبے کا اشتہار، کپڑوں کا کوئی برانڈ ہو یا نہانے کا صابن، یہاں تک کے مردوں کے استعمال کی کسی بھی چیز کا اشتہار جس سے عورت کا دور دور تک کوٸی لینا دینا نہیں ہوتا، الغرض ہر پروڈکٹ کے اشتہار پر عورت کو نیم برہنہ کر کے ایسے پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے اشتہار کسی پروڈکٹ کی سیل بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ عورت دکھانے کے لیے ہے-
پھر صبح سے لیکر رات تک چلنے والے ڈاموں میں بے حیائی اور بے ہودہ عشق نے نٸی نسل کو جہاں گمراہ کیا وہیں رشتوں کے تقدس کو بھی پامال کردیا ہے۔
یہ ان ڈھیڑوں وجوہات میں سے چند وجوہات ہیں جو روز بروز جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوٸے واقعات پر “Directly “یا ” Indirectly ” اپنے اثرات مرتب کرتیں ہیں۔ سزا و جزاء کا قانون وقتی طور پر تو ان واقعات کی روک تھام میں کسی حد تک معاون ثابت ہوسکتا ہے، مگر دیرپا اثرات مرتب نہیں کر سکتا ہے۔ نٸی نسل جس بے راہ داری کا شکار ہے وہاں ڈرانے دھمکانے سے نہیں بلکہ تربیت سے راہ راست پر لایا جانا ضروری ہے۔
میرے نزدیک اگر دودھ کے اشتہار پر عورت کو نہ بھی نچایا جاٸے، تب بھی دودھ بک سکتا ہے۔ نیم برہنہ عورت کو نہاتے ہوٸے دکھاٸے بغير بھی صابن بک سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ڈراموں اور فلموں کے معیار کو بہتر کیا جاٸے اور تھرڈ کلاس عاشقی کے بجاٸے فیملی پروگرامز نشر کیے جاٸیں تو معاشرہ کی اصلاح کسی حد تک ہو سکتی ہے۔
آپ مجھ سے ہزار بار اختلاف کریں، مگر جب تک “Long term Planning ” کے ساتھ اس مسٸلے کا حل تلاش نہیں کریں گے تب تک یہ مسلہ حل نہیں ہو سکتا۔
اگر سزا و جزا کا قانون کسی بھی معاشرے میں تربيت کے بغير کارآمد ہو سکتا تو آج جیلوں میں قاتلوں، چوروں سیمت جرائم پیشہ افراد کی بھر مار نہ ہوتی اور نہ ہی ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا۔۔۔
میں قَطعی سزا کا مخالف نہیں ہوں، مگر میرا معاشرہ پہلے تربیت چاہتا ہے۔ پہلے ان تمام عوامل کا خاتمہ چاہتا ہے جو جرم کے سرزد ہونے میں کسی قسم کی بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
ان عوامل کے خاتمے سے پروڈکٹ کی سیل پر کوٸی خاص فرق نہیں پڑسکتا،کیونکہ روزمرہ کی زندگی میں اشیاء کی ضرورت رہتی ہے اگر عورت کو دیکھاۓ بغیر بھی آپ اشیاء کو فروخت کریں تو وہ فروخت ہوجائیں گی۔ مگر اس بے حیائی کے بازار میں قوم کا اخلاق و کردار ضرور گرتا جارہا ہے، جس کے باعث معاشرہ بد سے بد تر حالات کا شکار ہورہا ہے، آپ کی سزا کا قانون چند ماہ یا چند سال کے لیے جرم کے واقعات میں کمی ضرور لا سکتا ہے مگر مکمل طور پر اسکا خاتمہ نہیں کرسکتا۔
یہ میرا نقطہ نظریہ ہے۔ اتفاق یا اختلاف آپ کا حق ہے۔
اللہﷻ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
آمین!









یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں ہمارے سیاستدان اور حکمرانوں کی غفلت شامل ہے
Wonderful, this is more than I expected.
Perfect!
بہت ہی عمدہ لکھا ہے کمال است خوش رہیں
I appreciate you.
بہت ہی عمدہ لکھا ہے کمال است خوش رہیں
Good Work!
You are an inspiration