
حضرت بابا فرید گنج شکر رحمةاللہ علیہ اپنے ملفوظات “اسرارالاولیاء” میں ذکر کرتے ہیں کہ:
ایک آدمی اپنی غربت اور روزگار کی کمی کے باعث تنگ ہو کر اپنے شہر کو چھوڑ کر دوسرے شہر جانے کا ارادہ کیا کہ مبادا وہاں اچھا روزگار مل جاۓ،اسی شہر میں ایک بزرگ بھی رہتے تھے،وہ آدمی آخری الوداعی ملاقات کے لۓ ان بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا،بزرگ نے شہر چھوڑنے کی وجہ پوچھی تو آدمی نے عرض کیا تنگدستی سے مجبور ہو کر تلاشِ معاش کیلۓ جا رہا ہوں،بزرگ نے فرمایا جب اُس شہر میں پہنچو تو وہاں کے خدا کو میرا سلام کہنا۔اس آدمی نے حیرت سے پوچھا حضرت کیا وہاں کا خدا کوئی اور ہے؟بزرگ نے فرمایا اے نادان جب تجھے معلوم ہے کہ اِس شہر اور اُس شہر کا خدا ایک ہی ہے،یہاں اور وہاں جو تیرے مقدر میں ہے بغیر کسی کمی کے تجھے دے گا تو پھر روزی کے لیے اتنی تکلیف کیوں اٹھاتا ہے جاؤ اور اطمينان اور سکون قلب سے اپنے ربﷻ کو یاد کرو پھر دیکھو وہ کیا ظاہر کرتا ہے۔
انسان کا رزق اللہﷻ نے اس کی پیدائش سے قبل ہی لکھ دیا ہے،جو اُس کو ہر حال میں مل کر رہے گا،اگر انسان ہزار سال کوشش بھی کرے تو وہ اتنا ہی رزق کما سکتا ہے جتنا کے لیے لکھا گیا ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بہت سے لوگ رزق کے لیے پریشان ہوتے ہیں،کچھ رزق کے لیے اتنی کوشش کرتے ہیں کہ اللہﷻ کے مقرر کردہ فرائض(نماز،روزہ)سے بھی غافل ہوجاتے ہیں،یہ واقعہ ہمیں اللہﷻ پر کامل یقین کرنے درس دیتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ہم رزق کمانا اور کوشش کرنا ہی چھوڑ دیں،بہتر سے بہترین کی کوشش ضرور کرنی چاہیے مگر اس بہترین کے چکر میں اپنے ربﷻ کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے اور اس بہترین کی تلاش میں بھی ربﷻ پر مکمل بھروسہ اور یقین ہونا چاہیے،کہ آپ کوشش کریں اور نتیجہ اللہﷻ پر چھوڑ دیں وہ یقیناً اپنے بندے کو اس کے گمان کے مطابق عطا کرتا ہے،بس ہمیں اپنے یقین کو پختہ کرنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں رزق میں اضافہ اور برکت کے لیے اہل اللہ سے ایک وظیفہ منقول ہے کہ جو شخص مغرب کی نماز کے بعد 21 بار سورہ کوثر(اول وآخر 3 بار درود شریف ) پڑھ لیا کرے اللہﷻ اس کے رزق میں اضافہ و برکت عطا کرۓ گا۔ ان شاءاللہﷻ








