سیاست کیا چیز ہے؟
سیاست اس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح سے قریب اور فساد سے دور ہوجائیں۔
تحریر: زرلش کشمیری نمائندہ (9نیوز) کراچی
اہل مغرب فنِ حکومت کو سیاست کہتے ہیں۔
امور مملکت کا نظم ونسق برقرار رکھنے والوں کو سیاستدان کہا جاتا ہے.
پولیٹکس ایک ایسا کام ہے جو کہ نہایت سمجھداری اور توجہ سے کیا جاتا ہے. سیاست کرنے کے لئے انسان کے پاس قابلیت کا ہونا بہت ضروری ہے
اور جس انسان کے پاس اچھا دماغ اور قابلیت موجود ہے بس وہ سب سے اچھا سیاستداں کہلایا جاسکتا ہے۔
سیاست دراصل اقتدار میں آنے کے لئے کی جاتی ہے ، اور اقتدار میں آنے کا حق میرے خیال میں صرف قابل، محنتی اور ایماندار لوگوں کو ملنا چاہئے۔
کیونکہ ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ جو جس کام کا ماہر ہے اس کی خدمات لی جائیں. مثلاً اگر کسی نے کپڑے سلوانے ہیں تو ان کی کوشش ہوگی کہ استاد سی کے دے.
اسی طرح اگر علاج کروانا ہے تو کوشش ہوگی کہ بہترین حکیم یا ڈاکٹر سے علاج کرایا جائے. لیکن آجکل ہم دیکھ رہے ہیں
جو لوگ ہمارے حکمران بنا کر ہمارے سروں پر مسلط کئے جا رہے ہیں وہ حقیقت میں حکمران بننے کہ اہل ہی نہیں۔
کسی کو بنیادی اسلام کا پتا نہیں اور کوئی غلط حوالے دے کر اپنی جہالت کا ثبوت دیتا ہے. ایک سے بڑھ کر ایک بدیانت لوگ ہیں اور اپنی کرپشن چھپانے کہ لئے ایک کہ بعد ایک غلط کام کرتے ہیں جو کہ سارا زمانہ جانتا ہے.
اس ملک کی سیاست میں کرپشن اور بدعنوانی کا بہت بڑا ہاتھ ہے. اسی بدعنوانی نے قائدِاعظم اور لیاقت علی خان جیسے مخلص ترین لوگوں اپنی راہ سے ہٹا دیا.
ہمارے نام نہاد سیاستدان معصوم اور غریب عوام کو دھوکے میں رکھ کر کرپشن کرتے ہیں
اور اپنے کالے دھن کو باقائدہ پاک کرنے کے لئے قاضی و چوکیدار کی حمائت بھی حاصل کرتے ہیں.
یہ بات سارا میڈیا اور پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ کون سا سیاستدان کس نوعیت کا ہے.
بدعنوان سیاستدانوں کی فہرست مرتب کی جائے تو “میاں محمد نواز شریف” کا نام اس مُلک کو لوٹنے والوں سرِ فہرست ہوگا. موصوف ہمارے پیارے ملک پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں اور چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے کی خواہش رکھتے ہیں.
کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ،ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے”
یہ جناب تین دفعہ اقتدار میں آئے ملک کا پیسا لوٹا ، غریب کا حق مارا۔۔
ملک و قوم سے لوٹے گئے پیسے کو باپ کا مال سمجھ کر باہر ملکوں میں لے کر گئے اور وہاں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے جائیدادیں خریدیں جو کہ پاکستانی کروڑوں اور اربوں روپے کی مالیت ہیں۔
انہوں نے اپنے 30 سال کے دور دورِ حکومت (بلکہ دورِ جہالت) میں کوئی ایک ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں کم از کم اپنا ہی علاج کروا سکیں.
کوئی ایک ایسا فلاحی ادارہ نہیں بنایا جس سے ملک کی عوام فائدہ حاصل کر سکیں. یہ لوگ انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں
انہوں نے آج تک سیاست کے نام پر عوام کو فقط دھوکا ہی دیا ہے. زبان زدِعام پر ہے کہ ان کو نہ بولنے کا طریقہ آتا ہے نہ فنِ سیاست.
جاتی عمرہ کا محل، ایون فیلڈ فلیٹس، اتفاق سٹیل مل، شوگر ملز، پولٹری کا کاروبار، سولر سسٹم کا کاروبار اور دیگر کئی فلاحی منصوبوں کا لوٹا ہوا پیسہ موصوف کی کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہیں
جو پنجاب کی شرح تعلیم پر ایک سوالیہ نشان ہیں.
جہاں موصوف نواز شریف کی بات ہو رہی ہے تو وہاں ان کے جیسے اور بھی بہت سے دھوکے باز لوگ موجود ہیں
جنہوں نے اپنی پوری کوششوں سے ملک کو لوٹنے اور تباہی کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کئے ہیں
سیاست کا بادشاہ کہلایا جانے والا دوسرا بڑا نام اور تمام بدعنواوں کا ماسٹر مائنڈ؛ اس ملک کا سابق صدر آصف علی زرداری صاحب ہیں
جن کی کرپشن اور لوٹ مار کے باعث کراچی سمندر کنارے ہونے کے باوجود آلودگی اور غیر موزوں نکاسی آب جیسے مسائل کا شکار ہے.
ان کی سیاست سندھ کے علاقہ تھر ریگستان میں بھوک سے بلکتے اور قحط سے مرتے لوگوں کا منہ چِڑا رہی ہے.
ان موصوف کی ایک پہچان سب سے بڑی بیماری کے طور پر بھی جانی اور مانی جاتی ہے۔
آصف زرداری نے سندھ میں حکومت کی جو کہ آج بھی قائم و دائم ہے
اور ان صاحب نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ساتھ ملا کر کراچی اور سندھ کو بربادی کی راہ پر گامزن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔
اور اس کامیابی کے پیچھے” مکاری ، دھوکےبازی، جھوٹ، فریب ،اور اچھائی کا لبادہ اوڑھ کر کی جانے والی گندی سیاست ” کا ہاتھ ہے.
شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر کی قربانیوں جناذہ نکالنے میں اور جمہوریت کی شکل بگاڑنے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنماؤں کا بہت بڑاکردار ہے.
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کالے کرتوت چھپانے کے لئے قوانین میں بلاجھجھک اور بغیر کسی خوف کے ترامیم کرتے ہیں
ان جیسے کم ظرفوں کے لئے ایک شعر عرض ہے !
” تمنا سربلندی کی ہمیں بھی تنگ کرتی ہے
مگر ہم دوسروں کو روند کر اونچا نہیں ہوتے”
ایسے سیاستدانوں کو ایک پیغام دینا چاہوں گی کہ جناب سیاست اگر کرنی ہی ہے اور آپ خود کو اتنا سمجھدار اور اس قابل سمجھتے ہیں تو ملک کے لئے سیاست کریں نہ کہ ملک کے ساتھ…!
ایک نہ ایک دن ہم سب کو بارگاہِ الہٰی میں جوابدہ ہونا ہے ، اُسوقت آپکے پاس کوئی جواب نہ ہوگا کیونکہ آپ سب نے اپنے اُلو سیدھے کرنے اور اپنی دکانیں چمکانے میں خود کو اندھا کرلیا ہے
اس بات پر “مرزا اسداللہ خان غالب”
ایک شعر عرض کرنا چاہتی ہوں کہ،
” کعبہ کس منہ سے جاوٴ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی “








