317

‏اسےاتفاق کہیں یا سوچاسمجھا منصوبہ؟

‏اسےاتفاق کہیں یا سوچاسمجھا منصوبہ…؟

انیلا خالد: سینئر صحافی/ تجزیہ نگار

وباکےدوران جہاں دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں کابیڑہ غرق ہوا،ادارے اور کارخانے بند ہوئے،لوگوں کو ملازمتوں سے نکالا گیا۔نتیجتاًامریکہ میں بیروزگاری 4 سے 13فیصد تک پہنچی، برطانیہ میں 3.8 سے 10فیصد تک پہنچی، چائنہ میں 4.2 سے 6.2فیصد تک پہنچی،



‏یہاں تک کہ یہی بڑی معیشتیں ہسپتالوں میں وبا کے دوران مفت علاج تک نہ فراہم کرسکیں۔
ان کےبرعکس پاکستان میں ‎بےروزگاری 2017 میں 3.9 فیصد،2020 میں 4.6 اور فی الوقت 4.7 ہے حالانکہ جس میں بڑا کردار گلوبل کرائسز کا رہا۔
مزید برآں ہسپتالوں میں وباکے مریضوں کا علاج اور ویکسین مفت ملتی رہی۔



‏صحت کارڈ کے ذریعےامراض قلب،جگر کی پیوندکاری، کینسر و دیگر مہنگے علاج مفت ہورہے ہیں،کسی کو ایک روپیہ بھی ہیلتھ انشورنس کے طور پر نہیں دینا پڑتا۔
آئی ایم ایف, موڈیز, سٹینڈرڈ اینڈ پوورز, بلوم برگ جیسی کمپنیوں اور اداروں نے پاکستان کی معیشت کی موجودہ صورتحال کو سراہا ہے

‏‎ بلوم برگ نے رواں سال 30 جنوری کو شائع کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت نےجنوبی ایشیا میں سب سے بڑی صنعت بنتے ہوئے بنگال دیش اور ہندوستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
‏جریدے کے مطابق،”حکومت کی بروقت اقدامات اور مثبت پالیسیوں کی بدولت پاکستان میں مفلوج ٹیکسٹائل صنعت نےجنوری 2022میں 21 بلین ڈالرز کمائے۔جو پاکستان کےکل برآمدات سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔”
بلومبرگ کے مطابق،”2018 سے2022 تک ڈالر کو اپنے حقیقی قیمت پرلانااس کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔”

‏دوسری جانب دس فروری 2022 میں روئٹرز لکھتا ہے کہ پاکستان کا زرمبادلہ ذخائر فروری میں 1609 ملین ڈالرز سے 17336 ملین ڈالرز تک پہنچ گئے۔



‏علاوہ ازیں، پاکستان کی موجودہ حکومت کی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدوں کےبعد 2021 مالی سال کے پہلےچھ مہینوں میں تجارت 120 ملین ڈالرز تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال تک 14 ملین ڈالرز تھی۔ یہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔
‏خارجہ پالیسی کی مد میں امریکہ، یورپی یونین، اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا برابری کا تعلق، افغانستان سے امریکی فوجیوں کی انخلا کے بعد وہاں کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات، دہشتگردی سے نمٹنے کی پالیسی، پاکستان کے گردن پر FATF کی لٹکتی تلوار سے بچاؤ،



‏پاکستان کوگھیرنےاورعالمی سطح پر تنہااسےکرنے کی ہندوستان کی پالیسی، ہندوستانی جارحیت کو منہ توڑ جواب دینا، عمران خان کا روس کا حالیہ دورہ اور اس کی ہمسائیگی سےدور رس فوائد اٹھانا،یہ وہ تمام اقدامات ہیں جس کی بدولت پاکستان قومی اور عالمی سطح پر مستحکم، مربوط و مضبوط بننے جارہا ہے
‏اقتصادی پنڈتوں کے مطابق، دنیا کورونا وبا کے چنگل سے آزاد ہورہی ہے، سپلائی اور ڈیمانڈ کے مابین غیر متوازن صورتحال توازن کی طرف آرہا ہے۔
مزدوروں کی قلت 2022 میں ختم ہونے کو ہے۔ اور 2023 دنیا کے اقتصاد کے لیے ایک مستحکم اور موزوں سال تصور کیا جارہا ہے۔

‏ایسے میں پاکستان کی حکومت کو گرانا، اور ملک کو غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار کرنا، اور اس کو غیر مستحکم کرنا ملکی مفاد کا سوچنے والے دور اندیش سیاستدانوں کا کام نہیں ہوسکتا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت گرانے کے لیے جو سیاسی رہنما نکلے ہیں، اس ملک کو چلانے کے لیے ان کے پاس عالمی و ملکی حالات کے مطابق کیا لائحہ عمل اورمنصوبہ ہے؟

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں