عورت موت کے منہ میں جا کر زندگی کو جنم دیتی ہے
عورت رحمت ہے زحمت نہیں

معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کو دیکھتے ہوئے عورتوں کے حقوق اور حفاظت کے لئے کئی حقوق نسواں تنظیمیں بنائی گئی ہیں مگر مردوں کے کردار سازی کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے.
ہمارے معاشرے میں مرد ذات اپنی پسند کی کچھ احادیث اور آیات رٹے ہوتے ہیں مثال کے طور پر
( 1 ) ترجمہ
عورتوں کی چال بہت خطرناک ہوتی ہے ۔
( 2 ) ترجمہ
دو دو ، تین تین ، چار چار عورتوں سے نکاح کرو ۔
( 3 ) ترجمہ
مرد عورتوں پر سربراہ ہیں.
مگر جو عورت کے حقوق کے متعلق بتایا گیا ہے اس سے نظر پوشی ہمیشہ سے کی جاتی ہے حقیقت میں عورتیں آج بھی مظلوم ہیں
زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا تھا کیونکہ بیٹی کی پیدائش کو باعث شرمندگی تصور کیا جاتا تھا جب اسلام آیا تب عورت کو عورت نام کے ساتھ ہی سارے حقوق دئیے گئے پر آج 1400 سال بعد بھی کئی جگہوں پر بیٹی کی پیدائش کو شرمندگی ہی سمجھا جاتا ہے کئی گھرانوں میں جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں جشن منائے جاتے ہیں مگر جب وہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو سوگ کے سماں سے کم حالات نہیں ہوتے ۔
بیٹی کی پیدائش پر شرمندگی محسوس کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کی پیدائش بھی ایک عورت ہی سے ہوئی ہے وہی عورت بحیثیت ماں ان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ایک قابل انسان بن سکیں مگر 1400 پہلے جو حقوق اور مقام اسلام نے عورت کو دیا عورت آج بھی 90% اس سے محروم ہے
والدین یہ سوچ بچوں کے معصوم ذہنوں میں لاشعوری طور پر خود ڈال دیتے ہیں جب گھر میں بیٹے کی پسند کو ترجیح اور بیٹی کی پسند ناپسند کو نظر انداز کیا جاتا ہے. ایسے حالات میں جب بچے جوان ہوتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ بات پختگی اختیار کر چکی ہوتی ہے کہ
مرد نام ہی ایک غیرت کا ہے اور مرد نام ہی کی اہمیت ہے , عورت کا مرد کے مقابلے میں نہ کوئی مقام ہے نہ عزت
پھر ایسا ہوتا ہے کہ وہ شادی تو اپنی پسند کی عورت ہی سے کرتے ہیں مگر خواہش یہ رکھتے ہیں کہ ان کی پہلی اولاد بیٹا ہو بیٹی نہیں
کئی ایسے کیسز رپورٹ بھی ہوئے ہیں جہاں بیٹی کی پیدائش پر یا تو طلاق تک دے دی جاتی ہے یا پھر دوسری شادی رچالی جاتی ہے
اور جب تہذیب کی بات آتی ہے تو ہمارے دعوے ہمالیہ کی طرح بلند اور اس کے برعکس ہمارا عمل کا گراف سمندر کی سطح سے بھی نیچے ہوتا ہے
دورِماضی میں جانے کا فائدہ نہیں آئیں زرا حال کی بات کرتے ہیں
کچھ دن پہلے بلوچستان پنجگور میں باپ نے اپنے دو بیٹوں کے ساتھ مل کر اپنی بیٹی کو جان سے مار دیا وجہ یہ تھی کہ گھر سے کچھ رقم غائب ہوئی باپ نے چند مولوی اور لوگوں کو جمع کرکے فیصلہ کیا گیا کہ یہ چوری بیٹی نے کی ہے لہذا اسے سزا دی جائے
باپ اور بیٹوں نے بیٹی کو اتنا مارا کہ بے چاری کی وہی جان نکل گئی بیٹی کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو ویرانے میں پتھروں کے نیچے دفنا دیا ۔
اب زرا غور کریں کہ کچھ رقم کے غائب ہونے پر بنا کسی تفتیش کے باپ کے اس سخت ردعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عورت ذات کی اہمیت اس کی نظر میں کچھ بھی نہیں.
ایسا ہی کچھ دنوں پہلے میانوالی میں ہوا کہ 7 دن کی بچی کو 5 گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا اور قتل کرنے والا خود اس بچی کا باپ تھا کیونکہ اس کو بیٹے کی خواہش تھی مگر اس کے ہاں پہلی اولاد بچی پیدا ہوئی جس کا اس کو رنج تھا.
اس کیس نے زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کردی اس معصوم پھول کو کیا معلوم کہ اسے بیٹی نام کے جرم کی پاداش میں موت کی سزا دے دی گئی ہے.
بیٹیاں تو اللہ کی رحمت ہوتیں ہیں مگر اس بدبخت نے اپنے ہاتھوں اس رحمت کا قتل کردیا.
یہ ایسا واقعہ ہے جس نے سب کو ہلا کے رکھ دیا, کیا ایک باپ اپنی بیٹی کو مار سکتا ہے ؟
یہ تو اکثر سنا تھا کہ آج تک بیٹیاں غیرت کے نام پر قتل ہوئیں ہیں مگر یہاں اس بچی کو بیٹی نام کے جرم کی پاداش میں موت کی سزا دے دی گئی.
میرا نہیں خیال اس میں اس اکیلے باپ کا قصور ہے بلکہ اس کے ماں باپ کا بھی قصور ہے جنھوں نے اس کی تربیت میں کمی چھوڑ دی تھی
بیشک اس کے پاس ڈگریاں ہونگی مگر جہالت میں وہ گرا ہوا تھا اور اس کے عمل نے ایسا کرکے ثابت بھی کر دیا
قاتل باپ نے نہ صرف بچی کا خون کیا بلکہ پورے معاشرے کا قتل کیا, بیٹی تو رحمت ہوتی ہے مگر اس بدبخت کو پتا ہی نہیں جس ماں نے اس کو پیدا کیا وہ بھی کسی کی بیٹی تھی اور جس سے شادی کی وہ بھی کسی کی بیٹی ہوگی..
آخر کب تک یہ سب چلتا رہے گا ؟
آخر کب تک ہم اسی طرح بچیاں قتل ہوتیں دیکھتے رہیں گے ؟ آخر میں اتنا ہی کہ
ترجمہ: اورجب زندہ درگور کی گئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۔
ترجمہ: کہ کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی۔
سورۃ التکویر: 8,9








