آو سائفر سے کھیلیں
تحریر: حجاب رندھاوا
وہ 27 مارچ کی رات تھی جب جلسے میں عمران خان نے نہایت جذباتی انداز میں ایک خط لہراتے ہوے کہا کہ میری حکومت کو گرانے کیلئے بین الاقوامی سطح کی سازش کی جارہی ہے جس کا ثبوت یہ خط ہے ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی۔

جلسے کے شرکا سمیت ٹی وی سکرینز پر جلسہ دیکھتے لوگ اَن٘گُشْت بَہ دَنْداں رہ گئے کہ کسی ملک نے ہمارے وزیراعظم کو خط لکھ کر دھمکی دی
بعدازاں عوام سے خطاب میں سابق وزیراعظم نے امریکہ کا نام لیتے ہوے بتایا کہ دھمکی کا خط امریکہ کی جانب سے آیا ہے
یہ بھی پڑھیں :
آڈیو لیکس کا سلسلہ جاری، اس بار سابق وزیراعظم عمران خان کی آڈیو سامنے آگئی
ہم چونکہ آدھا کلو غیرت مند واقع ہوئے ہیں چنانچہ ہم یہ بےعزتی برداشت نہیں کر سکے اور “ہم کوئی غلام ہیں کا نعرہ بلند کرتے” اپنے سابق وزیر اعظم کے پیچھے جا کھڑے ہوے
اس سنگین نوعیت کے الزام پر نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا گیا جس میں یہ عقدہ کھلا کہ یہ امریکہ کی تحریری دھمکی نہیں بلکہ ہمارے سفیر کا بھیجا ہوا سائفر ہے
سائفر مطلب کوڈ ورڈ میں خفیہ پیغام جس میں سفیر اپنے ملک کو کسی بھی روز مرہ واقعے /ملاقات کی تفصیل یا اپنی سرگرمیوں کی رپورٹ دیتا ہے
اس اجلاس میں ایجینسز نے رپورٹ پیش کی کہ انھیں کسی بیرونی سازش کے ثبوت نہیں ملے
سفیر اسد مجید کی امریکہ میں مدت ملازمت بطور پاکستانی سفیر ختم ہو رہی تھی وہ الوداعی ملاقات کے لیے امریکی ڈپلومیٹ ڈونلڈ لو کے پاس گئے
وہاں کھانے کی میز پر پاکستانی سفیر نے شکوہ کیا کہ بائیڈن نے منتخب ہونے کے بعد ہمارے وزیراعظم عمران خان کو کال نہیں کی
امریکی ڈپلومیٹ نے کہا میں کیسے بائیڈن کو اس کال کے لیے رضامند کر سکتا ہوں وزیر اعظم کی جماعت تحریک انصاف نے امریکن انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو آفیشلی سپورٹ کیا جوبائیڈن کے خلاف مہم چلائی اب میں کس طرح صدر جوبائیڈن کو کہوں کہ تحریک انصاف کے چیرمین کو کال کریں اس کے ساتھ ہی انتہائی تلخ لہجے میں غیر سفارتی زبان استعمال کرتے ہوے پاکستان کی حکومت اور اسکی پالسیز پہ تنقید کی
اس ملاقات کے بعد اسد مجید واپس آ کر پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کو اس میٹنگ کا احوال لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکہ کے پاکستان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں امریکن حکومت پاکستان سے تعلقات نہیں رکھنا چاہتے
سفیر نے زور دیا کہ امریکی عہدیدار کے اس روئیے پہ ڈیمارش کیا جانا چاہیے
یہ دھمکی آمیز خط تھا یا میٹنگ کا احوال اس کو آڈیو لیک میں اسد عمر اور عمران خان کی گفتگو یوں واضح کرتی ہے
اسد عمر: ”آپ جان کے لیٹر کہہ رہے ہیں۔ یہ لیٹر نہیں ہے میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ ہے۔“
عمران خان :”وہی ہے نا۔ میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ ہے۔ ٹرانسکرپٹ یا لیٹر ایک ہی چیز ہے۔ لوگوں کو ٹرانسکرپٹ کی تو نہیں نا سمجھ آنی تھی نا۔ آپ پبلک جلسے میں تو یہ کہتے ہیں۔“
اس میں دو باتیں ہے
نمبر 1 یہ امریکی دھمکی آمیز خط نہیں سو امریکی دھمکی کے سامنے لیٹ گئے والا بیانیہ دم توڑ گیا
نمبر 2 کپتان کو خوب اندازہ ہے کہ جلسے میں جن افراد سے اس نے خطاب کرنا ہے، ان کا علمی لیول ایسا نہیں کہ انہیں لفظ ٹرانسکرپٹ کی سمجھ آئے۔ اس لیے کپتان نے اپنے معتقدین کی سہولت کے لیے ٹرانسکرپٹ، کو خط قرار دے دیا۔
کیا سائفر یعنی سفارتی کورڈ ورڈ خفیہ زبان کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا گیا؟؟؟
اس سوال کا جواب ہمیں اس آڈیو لیک کے پارٹ ون میں یوں ملتا ہے
آڈیو میں سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کہتے ہیں شاہ محمود کو کہیں گے کہ وہ لیٹر پڑھ کر سنائیں، وہ جو بھی پڑھ کر سنائیں گے اسے کاپی میں بدل دیں گے، وہ میں منٹس میں (تبدیل) کردوں گا کہ سیکریٹری خارجہ نے یہ چیز بنادی ہے۔
آڈیو میں مبینہ طور پر اعظم خان نے مزید کہا کہ بس اس کا کام یہ ہوگا کہ اس کا تجزیہ ہوگا جو اپنی مرضی کے منٹس میں کردیں گے تاکہ دفتری ریکارڈ میں آجائے اور تجزیہ یہی ہوگا کہ سفارتی روایات کے خلاف دھمکی دی گئی، سفارتی زبان میں اسے دھمکی کہتے ہیں
کیا مرضی کے منٹس بنانے کا مشورہ دینے والے اعظم خان نے اسے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا
کیا ہماری سفارت کاری کا دنیا بھر میں مزاق نہیں بنا دیا گیا
اب کوئی بھی غیر ملکی سفیر پاکستانی سفیر سے بات کرنے میں محتاط ہو گا کیونکہ انھیں خدشہ ہو گا کہ ان کی کہی کوئی بات یا بیان کو توڑ مروڑ کر یا ایسے انداز میں تو نہیں پیش کیا جائے گا کہ جیسے وہ پاکستان کو دھمکی دے رہے ہوں۔
سپریم کورٹ نے بھی عمران خان کے دھمکی آمیز خط والے بیانیے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ عدالتیں قیاس آرائیوں سے نہیں ثبوتوں پر فیصلے دیتی ہیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ایگزیکٹو کی ڈیوٹی تھی کہ وہ سائفر پر فیصلہ کرے لیکن پی ٹی آئی حکومت نے کوئی “انکوائری” نہیں کی اور نہ ہی حکم دیا یاد رہے کہ سائفر 8 مارچ کو وزارت خارجہ کو موصول ہوا
اب سوال یہ کہ ایسا کیوں کیا گیا
تو اس کا جواب بھی عمران خان کی آڈیو لیک میں صاف نظر آتا ہے
جب وہ کہتے ہیں ہم نے سائفر پہ صرف کھیلنا ہے
جب کھلینا یعنی اس پہ سیاسی سٹنٹ کرنا ہی مقصود تھا تو اس پہ انکوائری کیوں کرائی جاتی ایسے پھر مرضی کے منٹس بھی سامنے آتے
اگر یہ پاکستان کی ریاست کے خلاف حقیقی خطرہ ہوتا تو عمران خان کبھی یہ نہ کہتے کہ چلو سائفر سے کھیلیں ۔
یہاں پہ قابل زکر بات یہ ہے جب یہ سائفر دفتر خارجہ پہنچتا ہے تو اس کی ایک کاپی GHQ یعنی آرمی چیف کے پاس بھی جاتی ہے ایک کاپی DGISI کے پاس اور ایک کاپی آفیشل چینل سے وزیراعظم کے پاس جاتی ہے
جی ایچ کیو کا سٹاف اس سائفر کی سمری بنا کر آرمی چیف کو پیش کرتا ہے آرمی چیف کی 11مارچ کو کامرہ ائیر بیس پر وزیر اعظم کی آرمی چیف کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے اس ملاقات میں آرمی چیف وزیر اعظم سے سائفر کا زکر کرتے ہیں جس پہ سابق وزیراعظم عمران خان صاحب جنرل باجوہ صاحب کو جواب دیتے ہیں کہ اس قسم کے مراسلے آتے رہتے ہیں
یعنی اس وقت تک عمران خان صاحب کے لیے یہ مراسلہ اہمیت کا حامل نہیں تھا ہم غلام نہیں تھے البتہ خان صاحب نے حکومت جاتی دیکھ کر جو کرا رہا ہے امریکہ کرا رہا ہے کے آزمودہ نسخے پر ٹاکی مار کر اسے 27 مارچ کو عوام میں نمائش کے لیے پیش کر دیا
اس آڈیو لیک کے بعد یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئ کہ یہ سائفر عمران خان سے چھپایا گیا
سوال یہ ہے کہ خان صاحب سے یہ سائفر کس نے چھپایا
شاہ محمود قریشی نے 5 اپریل کو وسیم بادامی کےشو میں کہا تھا کہ مجھے سائفر اگلے دن میں ہی مل گیا تھا۔ کیا شاہ محمود قریشی نےچھپایا؟؟؟
دفتر خارجہ نے بھی ان الزامات کی سختی سے تردید کی
اب آتے ہیں جلسے میں پوچھے جانے والے سابق وزیر اعظم کے ملین ڈالر سوال کی طرف وزیراعظم تو میں تھا خط میں کس کو مخاطب کر کے دھمکی دی
جناب خط تو تھا نہیں ایک امریکی عہدیدار پاکستانی سفیر سے مخاطب تھا جس طرح ہر ملک کا سفیر اپنے ملک کو اپنی ملاقاتوں کی رودادِ اور اس پہ اپنا تجزیہ بھیجتا ہے یہ وہی روداد تھی اب اس ملاقات کی تفصیل اور تجزیہ تو سفیر کی جانب سے آیا اس نے تو آپ کو دھمکی دی نہیں… جو دھمکی ملی نہیں وہ آپ نے محسوس کیسے کر لی؟؟
اگر آپ اپنے زہن میں سائفر کو امریکی خط بنا کر یہ تصور کرتے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کی فوج کو مخاطب کرتے ہوئے آپ کو ہٹانے کی دھمکی دی تو جناب عمران خان صاحب کیا یہ کام وہ ڈائرکٹ سر انجام نہیں دے سکتے تھے؟؟ امریکی اعلی عہدے دار آئے روز آرمی چیف،سمیت پاکستان کے اہم عہدے داروں سے ملاقاتیں کرتے پائے جاتے ہیں انھوں نے ڈائریکٹ ایسی دھمکی کیوں نہ دی اس پیغام رسانی کے لیے دوسرے درجے کے عہدے دار کو کیوں چنا امریکی ڈرتے تھے کیا؟؟
محض سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے عمران خان کے اس سیاسی سٹنٹ نے امریکہ کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات کو بھی نقصان پہنچایا ہے بلکہ ہمیں دوسرے ممالک کے ساتھ سفارتی بے اعتباری کا نشان بنا دیا ہے
جبکہ خود عمران خان امریکہ سے اپنے تعلقات کی درستگی کے لیے امریکی سفیر سے ملاقات بھی کرتے ہیں اور امریکی فرم بھی ہائر کرتے ہیں جب سوال ہو جناب آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو جواب آتا ہے میں اینٹی امریکہ نہیں میں دوستی چاہتا ہوں غلامی نہیں
جناب ہمیں کیسے پتا چلے آپ کی ملاقاتیں اور امریکی فرم کی آپ کے لیے امریکنز میں امیج بلڈنگ کی کوششیں دوستی کے لیے ہیں یا غلامی کے لیے؟؟؟
اب عمران خان صاحب فرماتے ہیں ابھی تو میں سائفر سے کھیلا نہیں اب سائفر ہی پبلک کر دو یعنی دنیا میں آپ کی سفارت کاری کی دھجیاں اڑ چکی اب رہتی کثر اس طرح پوری ہو سکتی ہے کہ دنیا کو آپ کی سفارتی خفیہ کوڈ ورڈنگ کا بھی علم ہو جائے اس چیپٹر کے کلوز ہونے کے لیے اور عوام کی جانکاری کے لیے اس پہ اب تحقیقات ضرور ہونی چاہیے کہ پاکستان کا دنیا میں مذاق بنانے کے لیے کس نے کتنا حصہ ڈالا








