عورت اپنی زندگی میں بہت سے رشتوں کا کردار ادا کرتی ہے

نسان کی زندگی کے بےشمار تقاضے اور اصول و ضوابط ہوتے ہیں انہی میں سے ایک انسان کا رویہ ہی ہے جو اس کی شخصیت کو دوسروں پر ظاہر کرتا ہے اور فطری طور پر ہر انسان منفرد صلاحیت رکھتا ہے.
بیکار تو کسی چیز کو نہیں کہہ سکتے مگر یہ یاد رکھیں کہ ہر انسان پر یہ زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی انفرادی صلاحیتوں کی بہتر نشوونما کرکے خود کو تمام انسانوں کے لئے کارآمد ثابت کرے ۔
بےشک یہ سفر کافی طویل ہوسکتا ہے پر وقت کے تھپیڑوں اور راہ کی ٹھوکریں سہہ کر اس وقت کی بھٹی میں ڈھل کر کندن بننے کے بعد وہ کامیاب انسان ضرور بن جاتا ہے.
مگر ہمیں ابتدا کو دیکھنا ہوگا میرے خیال میں والدین کا بچوں کی زندگی میں بامعنی انداز میں موجود رہنا ان کو وقت دینا نہایت ضروری ہے..
ایک عورت اپنی زندگی میں بہت سے رشتوں کا کردار ادا کرتی ہے لیکن بحیثیت بیوی اور ماں کے اس کی زمرہ داریاں کافی اہم ہوتی ہیں کیونکہ یہ دونوں رشتے خاندانی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
مگر موجودہ دور میں یہ دونوں تعلق ہی خلفشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے جارہے ہیں
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھنے کو ملی بوڑھی ماں کو بیٹے نے گھر سے نکال دیا اور ماں اپنی فریاد لیے پولیس اسٹیشن پہنچ گئی تھی
اب آ تے ہیں دوسری طرف…. !
کچھ دن پہلے کراچی سے لاپتہ ہونے والی 14 سالہ دعا زہرہ کا نکاح نامہ منظر عام پر آیا اور مذید کہ لاہور میں دعا زہرہ نے اپنی پسند سے شادی کر لی ہے.
اسی طرح ایک اور لاپتہ لڑکی نمرہ کا سراغ لگایا گیا تو پتا چلا اس نے بھی اپنی پسند کی شادی کر لی ہے.
کئی دنوں سے جس کیس کو لے کر پولیس میں ہلچل مچی ہوئی تھی دعا کے نکاح نامہ سامنے آنے کے بعد حقائق بھی سامنے آئے کہ دعا کے والدین نے جھوٹ بولا کہ وہ 7th کی طلبہ ہے جبکہ پڑوسیوں کے مطابق دعا نے تیسری جماعت سے آ گے اسکول ہی نہیں گئی.
خیر…!
پسند کی شادی کرنا نہ تو گناہ ہے نہ ہی برا
مگر گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والوں کو ہمارا معاشرہ اچھی نظروں سے دیکھتا بھی نہیں ہے.
ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ گھر سے بھاگنے کی نوبت آئی کیوں ؟
بڑی وجہ والدین کا بچوں کو وقت نہ دینا ان کی پسند ناپسند کو ترجیح نہ دینا ہے.
دیکھیں آ ج کے اس دور میں غم معاش نے ہر ایک کو پریشان کر رکھا ہے لوگوں نے اپنی ضروریات کو اس حد تک بڑھا لیا ہے کہ ان کے پاس اپنے لئے تک وقت نہیں ہوتا, وہ اپنی زندگی کی آسائشوں کے لئے نہ دن دیکھتے نہ رات تگ و دو کر رہے اور دولت کی تتلی کے پیچھے پیچھے اس کو پکڑنے کی کوشش میں اپنوں سے بہت دور چلے جاتے ہیں.
یاد رکھیں تعلیم کی کمی کو تربیت تو ڈھانپ سکتی ہے مگر تربیت کی کمی کو تعلیم پورا نہیں کر سکتی.
اصل میں ہمارے معاشرے کے اندر جو اخلاقی پستی ہورہی ہے اس کی بڑی وجہ والدین اور اساتذہ کی طرف سے بچوں کی کردار سازی میں کمی ہے پھر اس کے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں. میرے خیال میں والدین کا بچوں کی زندگی میں بامعنی انداز میں موجود رہنا ان کو وقت دینا نہایت ضروری ہے.
جس طرح گھر میں بچے کی پسند ناپسند کا خیال رکھا جاتا ہے اسی طرح بچیوں کی پسند ناپسند کو بھی ترجیح دینا ہوگی.
والدین کی توجہ اور پیار نہ پا کر یہی بچیاں اکثر احساس کمتری کا شکار ہوجاتیں ہیں, کئی تو اس احساس محرومی کی وجہ سے اپنے احساسات اپنی خواہشات کو دفن کرکے زندگی سے سمجھوتہ کر لیتی ہیں اور اسی سمجھوتے لفظ کی بنیاد پر کئی گھرانے آباد کئے جاتے ہیں
مگر اس کے برعکس بعض ایسی بچیاں بھی ہوتیں ہیں جو اپنے احساسات کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی اس لئے وہ معاشرے کی ان ناانصافیوں کے خلاف کھلی بغاوت کرنے لگتیں ہیں.
اور ان کے معصوم ذہنوں کے فیصلے اس بغاوت کے اندھیرے میں ایسے دھکیل دیتے ہیں کہ ان کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے
دو روز قبل کی بات ہے ہمارے گھر کے سامنے گھر سے افطاری کے وقت شور کی آوازیں آئی تو پتا چلا موصوف کو روزہ لگا ہوا ہے اس لئے بیوی کو گالی گلوچ کررہے ہیں.
آج ان کے گھر گئی گھر کی بہو کے دائیں ہاتھ والی شہادت کی انگلی پر پٹی بندھی ہوئی اور وہ اسی ہاتھ سے لکھنے کی کوشش کر رہی تھی مگر صاف لکھ نہیں پا رہی تھی تو میں نے کہا لاؤ میں لکھ دیتی ہوں.
یہ سنتے ہی اس نے رجسٹر اور پن میری طرف بڑھا دیا
میں نے رجسٹر ہاتھ میں لیتے اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے پوچھا یہ کیا ہوا ہے
تو اس نے اپنی وہ انگلی اپنے بائیں ہاتھ میں پیار سے پکڑ لی, آپی میں سیڑھیاں دھوتے گر گئی تھی, میں نے کہا اچھا زیادہ چوٹ تو نہیں آئی؟
اس نے کہا نہیں آپی اب تو ٹھیک ہے
میں نے رجسٹر دیکھا تو وہ شاید اپنے دیور کی اسائنمنٹ لکھ رہی تھی
میں نے اس کا دیا کام لکھتے ہوئے کن انکھیوں سے اسے بھی دیکھ رہی تھی وہ پہلے کی نسبت آج کچھ زیادہ ہی خاموش دکھائی دے رہی تھی.
ماں باپ کی بےجا روک ٹوک سے تنگ آکر اپنی مرضی سے شادی کرنے والی آج دوسروں کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کر رہی ہے
وہ اپنی عمر سے دوگنا دکھائی دیتی ہے مگر ایک چیز جس کے سہارے وہ کھڑی ہے اور وہ ہے اپنے بچوں کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ, مگر بقول اس کے کہ اس کی نہ کوئی اہمیت ہے نہ قدر..
میں نے رجسٹر میز ہر رکھتے ہوئے اس کے نام سے آواز دی تو
اس نے ایسی نظروں سے میری طرف دیکھا جیسے میں نے اسے نہیں کسی اور کو آواز دی ہو.
میں نے اس کی حالت دیکھ کر مزاحیہ انداز میں کہا کہاں گم ہو میڈم ؟
تو وہ بولی آپی میں اکثر ایک دعا کرتی ہوں کہ میں اس وقت تک زندہ رہوں جب تک میرے بچے کسی قابل بن جائیں اور میں جانتی ہوں میرے بچوں کو میری ضرورت نہیں ہے یا شاید نہیں ہے مگر وقت تو مجھے کہہ رہا ہے کہ ابھی ان کو میری ضرورت ہے.
میں زیادہ پڑھ لکھ نہیں سکی اس لئے کوئی نوکری بھی نہیں کرتی اور لوگ کہتے ہیں کہ میں کچھ نہیں کرتی…
میں نے اس کی پوری بات سن کے پوچھا کون لوگ کہتے ہیں تو وہ پہلو بدلتے بولی کہ میں نے ایسا سنا ہے.
میں جانتی تھی کہ وہ اپنے گھر والوں کا نام لینا نہیں چاہتی جو ایسا کہہ رہے ہونگے.
جس نے بھی ایسا کہا ہے غلط کہا ہے آپ گھر میں کونسا فارغ بیٹھی رہتی ہو گھر کے سارے کام کون کرتا ہے آپ کرتی ہو ناں ؟ میں نے کہا
جی میں کرتی ہوں میرے سوال کا مختصر جواب اس نے دیا..
تو میں نے کہا ہاں آپ کرتی ہو تو یہ بھی کام ہی ہیں,
میری بات سن کے میرے پاس آکے بیٹھتے ہوئے بولی آپی کیا فائدہ اس کام کا جس کے بدلے نہ عزت ملے نہ قدر…
میں اس کے اس سوال کا جواب شاید دے پاتی مگر اتنے میں اس کی ساس کمرے میں برقعہ اتارتے داخل ہوئی اور برقعہ بہو کو پکڑاتے ہوئے بولی بیٹھی ہی رہی ہو یا افطاری کے لئے بھی کچھ بنایا ہے.
میں نے افطاری کی تیاری کرلی ہے بس روٹیاں بنانی ہیں اور افطاری میں ابھی ایک گھنٹہ رہتا ہے. اس نے آہستہ آ واز میں جواب دیا..
اس کا جواب شاید ساس کو پسند نہیں آیا اس لئے میری موجودگی کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے منہ چڑا کے بولی تمھیں پتا ہے وہ گھر آتا ہی ہوگا اور اس کے آنے سے پہلے ہر چیز اسے تیار چائیے.
وہ کمرے سے نکل گئی تو میں نے کہا آنٹی بھی بہت ٹائم ہے فکر نہ کریں.
تمھیں پتا نہیں بیٹا یہ ایسا ہی کرتی ہے کوئی کام وقت پر نہیں کرتی اسے کہہ کر کام کروانا پڑتا ہے.
پھر اس کی ساس ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی مگر مجھے وہاں بیٹھے رہنا اچھا نہیں لگا تو تھوڑی ہوں ہاں کے بعد میں گھر آگئی.
پر اسکی کمزور سی آواز میں یہ کہنا ک ( آپی میں جانتی ہوں میرے بچوں کو میری ضرورت نہیں ہے پر میں یہ بھی جانتی ہوں اور وقت بھی کہتا ہے کہ ابھی میرے بچوں کو میری ضرورت ہے) میرے دماغ سے نہیں نکل رہی تھی .
کیا ایک عورت کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں. ؟
جبکہ وہ ہر مشکل وقت میں اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی رہتی ہے.
اپنی پسند ناپسند کو ختم کرکے وہ اپنے بچوں اپنے گھر والوں کی پسند کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے پھر بھی اس کی اس کوشش اس محنت کی کوئی قدر نہیں ؟
کیا پسند کی شادی کا انجام ایسا ہوتا ہے یا اپنی پسند میں والدین کو شامل نہ کرکے اس نے غلطی کی تھی جس کی سزا اسے مل رہی ہے.
خدارا اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنی بچیوں کی تربیت ان کی پسند ناپسند کو بھی ترجیح دیں. ان کے ساتھ دوستانہ ماحول رکھیں کہ وہ اپنی مشکلات, اپنی پسند آپ سے شئیر کریں تاکہ ان کو غلط قدم اٹھانے کی نوبت ہی نہ آ ئے








