شہباز گل کی ضمانت منظوری کا تحریری حکمنامہ جاری 177

شہباز گل کی ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری

شہباز گل کی ضمانت منظوری کا تحریری حکمنامہ جاری

مانٹیرنگ ڈیسک (9نیوز) اسلام آباد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی ضمانت منظور ی کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق شہباز گل سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے، اس لئے ان کو مزید جیل میں نہیں رکھا جاسکتا. ان کو مزید جیل میں رکھنا بےسود بلکہ ٹرائل سے پہلے سزا دینے کے مترادف ہو گا.

Shahbaz gill bail accepted
شہباز گل کی ضمانت منظور ہونے کے موقع پر لی گئی تصویر

یاد رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو بغاوت اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے مقدمے میں ضمانت دے دی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے 30 اگست کو شہباز گل کی درخواست ضمانت مسترد کی. ضمانت مسترد ہونے کے فیصلے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا. شہباز گل کو تھانہ کوہسار میں 9 اگست کو درج کیے گئے مقدمہ میں اسی روز گرفتار کیا گیا. شہباز گل کے خلاف ایف آئی آر میں بغاوت سمیت دیگر دفعات شامل کی گئیں.

تحریری فیصلے میں‌کہا گیا ہے کہ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں‌ بیان دینے پر فوجداری مقدمے کا اندراج کیا گیا. پٹیشنر کے وکیل سلمان صفدر کے مطابق بغاوت پر اکسانے کا جرم نہیں بنتا. پٹیشنر کے وکیل نے کہا کہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا جو بدنیتی پر مبنی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وکیل نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ بھی مطمئن ہے کہ پاکستان پینل کوڈ دفعہ 131 کے علاوہ کوئی جرم نہیں بنتا. پراسیکیوٹر نے دلائل دیے کہ تقریر بغاوت کے مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ پراسیکیوٹر کے مطابق شہباز گل نے مسلح افواج کے ممبرز کو افسران کے آرڈرز نہ ماننے کا کہا۔اس بیان سے شہباز گل بغاوت پر اکسانے کے سنگین جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں‌لکھا کہ پراسیکیوٹر نہیں بتا سکے کہ شہباز گل نے جرم کی معاونت کے لیے مسلح افواج کے کسی افسر سے رابطہ کیا. کسی سیاسی جماعت کے ترجمان سے اس قسم کے لاپرواہ بیان کی توقع نہیں کیا جا سکتی. پراسیکیوشن ایسی کوئی چیز بھی ریکارڈ پر نہیں لائی کہ آرمڈ فورسز کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی ہو. آرمڈ فورسز کا ڈسپلن اتنا کمزور نہیں کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان سے اسے نقصان پہنچے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کوئی شواہد نہیں دے سکی کہ شہباز گل نے بیان سے پہلے یا بعد میں کسی افسر یا سپاہی سے رابطہ کیا.

فیصلہ کے مطابق شہباز گل سے تفتیش مکمل ہوچکی مزید جیل میں نہیں رکھا جاسکتا، ان کو مزید جیل میں رکھنا بےسود بلکہ ٹرائل سے پہلے سزا دینے کے مترادف ہو گا، ہر سماعت پر عدالت حاضری یقینی بنانے کے لیے ٹرائل کورٹ شہباز گل کو پابند کر سکتی ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کے سامنے ایسا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکا کہ شہباز گل کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے. تحریری فیصلہ کے مطابق شہباز گل کی پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر ضمانت منظور کی جاتی ہے۔

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں