تھانہ بگنوتر کی حدود چہان میں نوجوان حریرہ کے قتل میں ملوث تین ملزمان گرفتار مقدمہ درج
نیوز ڈیسک(9نیوز) ایبٹ آباد
تفصیلات کے مطابق واقعے کے حوالے سے بگنوتر پولیس کو کل مورخہ 24 ستمبر صبح 05 بجے اطلاع ملی،
پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی جو کہ مین روڈ سے دو کلو میٹر پیدل فاصلہ پر تھا ، لڑکے کو زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچایا گیا،
تاہم وہاں کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس نے لڑکے کی بروقت مدد کے بجائے ویڈیوز بنانے کو افضل جانا جس کی وجہ سے لڑکے کی موت ہوگئی،
ایبٹ آباد: ایبٹ آباد پولیس کی بے حسی کی انتہا،
تھانہ بنگنوتر کی حدود چہان میں زخمی نو جوان تڑپتا رہا پولیس اہلکار ویڈیو بناتے رہے، بروقت میڈیکل سہولیات نا ملنے کی وجہ سے نوجوان جان بحق
واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل@DpoAbbottabad @KP_Police1 @DC_abbottabad pic.twitter.com/5j7QSyX6QO— 9News (@9Newstv) September 25, 2022
ہسپتال پہنچنے کے بعد صبح 8 سے 9 کے درمیان نوجوان کی موت واقع ہوئی ، واقعہ کی نسبت مقتول کے بھائی نے پولیس کو رپورٹ کی کہ آج صبح اسے بزریعہ فون اطلاع ملی ہے کہ اس کا بھائی ، ملزمان کے گھر کے سامنے زخمی حالت میں پڑا ہے جسے پولیس نے علاج معالج کی خاطر ڈی ایچ کیو منتقل کیا ہے
مقتول کے بھائی کے مطابق مقتول حریرہ گھر کے قریب ہی درزی کی دوکان کرتا ہے جہاں اس کی ملزمہ طیبہ سے گپ شپ ہوئی جسے ملنے مقتول گزشتہ رات اس کے گھر گیا جہاں ملزمہ طیبہ دختر شمعریز نے اپنی والدہ مسمات شاہین زوجہ شمعریز ، بھائی سہیل ولد شمعریز اور دیگر کے ساتھ باہمی مشاورت سے اسلحہ آتشین سے فائرنگ کر کے مدعی کے بھائی حریرہ کو قتل کیا۔
جس پر ملزمان کے خلاف تھانہ بگنوتر میں مقدمہ زیر دفعہ 302/34/109 پی پی سی درج رجسٹرڈ کرتے ہوئے پولیس نے تینوں ملزمان کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کا آغاذ کر دیا گیا ہے
پولیس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ پولیس نے زخمی کو ہسپتال لانے میں تاخیر کی، بلکہ موقع سے ملزمان نے مقامی افراد کو زخمی زخمی کو امداد پہنچانے سے روکا جبکہ پولیس کو بھی زخمی کو ہسپتال لانے کے لیے چارپائی نہیں جا رہی تھی جو کہ زبردستی چارپائی لی گئی اور زخمی کو ہسپتال پہنچایا گیا ۔








