190

ایبٹ آباد کے نواحی علاقہ بگنوتر میں نوجوان کے قتل میں ملوث تین ملزمان گرفتار

تھانہ بگنوتر کی حدود چہان میں نوجوان حریرہ کے قتل میں ملوث تین ملزمان گرفتار مقدمہ درج

نیوز ڈیسک(9نیوز) ایبٹ آباد

تفصیلات کے مطابق واقعے کے حوالے سے بگنوتر پولیس کو کل مورخہ 24 ستمبر صبح 05 بجے اطلاع ملی،

پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی جو کہ مین روڈ سے دو کلو میٹر پیدل فاصلہ پر تھا ، لڑکے کو زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچایا گیا،

تاہم وہاں کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس نے لڑکے کی بروقت مدد کے بجائے ویڈیوز بنانے کو افضل جانا جس کی وجہ سے لڑکے کی موت ہوگئی،

ہسپتال پہنچنے کے بعد صبح 8 سے 9 کے درمیان نوجوان کی موت واقع ہوئی ، واقعہ کی نسبت مقتول کے بھائی نے پولیس کو رپورٹ کی کہ آج صبح اسے بزریعہ فون اطلاع ملی ہے کہ اس کا بھائی ، ملزمان کے گھر کے سامنے زخمی حالت میں پڑا ہے جسے پولیس نے علاج معالج کی خاطر ڈی ایچ کیو منتقل کیا ہے

مقتول کے بھائی کے مطابق مقتول حریرہ گھر کے قریب ہی درزی کی دوکان کرتا ہے جہاں اس کی ملزمہ طیبہ سے گپ شپ ہوئی جسے ملنے مقتول گزشتہ رات اس کے گھر گیا جہاں ملزمہ طیبہ دختر شمعریز نے اپنی والدہ مسمات شاہین زوجہ شمعریز ، بھائی سہیل ولد شمعریز اور دیگر کے ساتھ باہمی مشاورت سے اسلحہ آتشین سے فائرنگ کر کے مدعی کے بھائی حریرہ کو قتل کیا۔

جس پر ملزمان کے خلاف تھانہ بگنوتر میں مقدمہ زیر دفعہ 302/34/109 پی پی سی درج رجسٹرڈ کرتے ہوئے پولیس نے تینوں ملزمان کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کا آغاذ کر دیا گیا ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ پولیس نے زخمی کو ہسپتال لانے میں تاخیر کی، بلکہ موقع سے ملزمان نے مقامی افراد کو زخمی زخمی کو امداد پہنچانے سے روکا جبکہ پولیس کو بھی زخمی کو ہسپتال لانے کے لیے چارپائی نہیں جا رہی تھی جو کہ زبردستی چارپائی لی گئی اور زخمی کو ہسپتال پہنچایا گیا ۔

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں