216

روس اور یوکرائن کے مابین جنگ نے گلوبل منافقت کا پول کھول دیا

گلوبل منافقت

طیبا سید: نیوز اینکر/رائٹر 9نیوز

دنیا خاص طور پہ ترقی یافتہ ممالک کی منافقت کا اندازہ تو تاریخ میں پہلے بھی کئی مرتبہ ہو چکا ہے



لیکن ابھی حالیہ روس اور یوکرائن کے مابین جنگ نے گلوبل منافقت کا پول کھول دیا ہے ۔ گو کہ جنگ ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور یہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو اس کی حوصلہ شکنی ہی کرنی چاھیے ۔ جنگیں جہاں ایک ہنستی بستی آبادی کو اجاڑ دیتی ہے وہیں دہائیوں تک جنگ ذدہ علاقوں میں انسانی نفسیات زبوں حالی کا شکار رہتی ہے ۔ لہذا کوئی بھی ذی شعور انسان روس کے یوکرائن پہ حملے کا دفاع نہیں کرے گا۔



جہاں جنگ کی بات ہو گی وہاں انسانی حقوق کے تحفظ کی بات ہونا بھی لازم ہے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کرنے والا کون ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں اس کا کیا کردار رہا ہے؟

تو ابھی روس اور یوکرائن جنگ میں سب سے پہلے جس شخص نے انسانی حقوق کی بات کی اور روس کے جارحانہ رویہ کی مذمت کی وہ اسرائیل کا وزیرِ خارجہ تھا۔ اس اسرائیل کا وزیرِ خارجہ جو 73 سالوں سے فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی کر رہا ہے ۔



وہ اسرائیل جس کا جارحیت کا سامنا معصوم فلسطینی دہائیوں سے کرتے آ رہے ہیں ۔ پھر امریکی حکمرانوں اور صحافیوں حتی کہ امریکی عوام بھی روس کے جارحانہ رویہ کی مذمت کر رہی ہے اور یوکرائن کے عوام اور فوج کی معترف ہو رہی ہے جو روسی فوج کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں ۔ بلاشبہ اپنے ملک کے دفاع کیلئے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لڑنا قابلِ تعریف ہے لیکن جب فلسطینی اور کشمیری اپنے ملک کے دفاع کےلیے ، آزادی کےلیے قابض فورسز کے سامنے ڈٹ کھڑے ہوتے ہیں تو یہ انسانی حقوق کے علمبردار ان کو دہشتگرد کہتے ہیں ۔



الجزیرہ میں ایک فلسطینی کالم نگار رفیق لکھتے ہیں کہ تل ابیب میں اسرائیلی عوام سڑکوں پہ نکل آئی اور یوکرائن کو آزاد کرو کے نعرے لگائے ، لیکن اسرائیل کی عوام نے کبھی یہ نعرہ نہیں لگایا کہ فلسطین کو آزاد کرو جبکہ کہ وہ قابض فورسز کی فلسطینیوں پر ظلم اور بربریت کے گواہ ہیں ۔



امریکی صدر جو باہیڈن نے تین ہزار کا فوجی دستہ یوکرائن میں روس کے خلاف لڑنے کےلیے بھیج دیا ہے ، جو کہ امریکہ کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔ اٹلی نے روس پر بھاری پابندیاں لگا دی ہیں ۔ یورپ کے حکمرانوں نے بھی روس کو بہت ساری دھمکیاں دی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر یورپین صارفین روس کے خلاف نعرے لگا رہا ہیں اور یوکرائن کو مزاحمت کو سراہنے کی کوشش میں محو ہے ۔ پورا یورپ اور امریکہ اس وقت روس کے خلاف متحد ہے اور یوکرائن کے حق میں آواز بلند کر رہا ہے ۔ یہ بہت خوش آئین بات ہوتی اگر یوں ہی پوری دنیا کشمیر ، فلسطین ، عراق ، بوسنیا اور چیچنیا کے حق میں آواز بلند کرتی اور ظالم کے خلاف کھڑی ہو جاتی۔ لیکن وہاں پوری دنیا اسلاموفوبیا کا شکار کھڑی نظر آتی ہے ۔ یہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں جو انسانی حقوق کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں درحقیقت دوہرے میعار سے لبریز ہیں اور صرف اپنے مفادات کی محافظ ہیں ۔



یہ دنیا سیاست کا اکھاڑہ ہے یہاں کو دین نہیں ، کوئی بھائی چارہ نہیں کام کرتا بلکہ مفادات دیکھے جاتے ہیں ۔ جہاں مفاد ہوگا وہاں انسانی حقوق کے تحفظ کے نعرے لگیں گے اور جہاں ظالم ان کو دوست ہوگا وہاں یہ مظلوم کو دہشتگرد کا تمغہ تھما کر ظلم کو مزید ترویج دیں گے ۔



امید ہے کہ یوکرائن اور روس کی جنگ جلد ختم ہو اور یوکرائن میں امن بحال ہو، لیکن اس جنگ کی بدولت منافق چہرے عیاں ہو گئے جو دہائیوں سے نقاب اوڑھے ہوئے تھے۔

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں