سری لنکا تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے
حکومت کے پاس ایندھن یا طبی سامان کی درآمد کے لیے کوئی پیسہ نہیں بچا. کاغذ امپورٹ کرنے کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کے امتحانات منسوخ کر دیے گئے۔
بے انتہا مہنگائی ہو چکی ہے۔ پیر کو سری لنکا کے گیس ریگولیٹر نے 12 کلو کے گیس سلنڈر کی قیمت میں 1400 روپے کا اضافہ کر دیا اسکے علاوہ ایک انڈہ 35 روپے ایک کلو مرغی 1000 روپے پیٹرول 283 روپے لیٹر اور ڈیزل 220 روپے لیٹر جا پہنچا ہے. سری لنکا کے کئی بڑے شہروں میں جمعے کے روز سے بلیک آؤٹ (بجلی بند) ہے بجلی بحال کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں لوگ مر رہے ہیں نا کھانا مل رہا نا علاج اور نا ہی ضروری اشیاء ہسپتالوں کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں کیونکہ ادوایات نا ہونے کے سبب ڈاکٹر بے بس ہیں
سری لنکا میں بدترین معاشی بحران کا ایک اہم مسئلہ اس کا بہت بڑا غیر ملکی قرض اور قرض کی خدمات کا بوجھ ہے، خاص طور پر IMF, چین، جاپان کا بے ہناہ قرضہ اب انکے پاس قرض ادا کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور سری لنکا ڈیفالٹ یا دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے۔
لنکن روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 14 دنوں میں 201 سے 280 تک گر گیا. سری لنکا کے حکمران راجا پاکسے برادران پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں پورا سری لنکا احتجاج کی نظر ہو کر جل رہا ہے
سری لنکا کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ سیاحت ہے جوکہ کرونا کی وجہ سے یہ بہت زیادہ متاثر ہوا۔ کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے فیکٹریاں بند ہوگئیں، اس کی برآمدات تقریباً 75 فیصد کم ہوگئیں








