154

سعودی عرب کا یمن میں اماراتی اسلحہ شپمنٹ پر حملہ؟ پس منظر، وجوہات اور ممکنہ نتائج

سعودی عرب کا یمن میں اماراتی اسلحہ شپمنٹ پر حملہ؟ پس منظر، وجوہات اور ممکنہ نتائج

Rahim khattak crime reporter
رحیم خٹک: چیف ایڈیٹر 9نیوز انٹرنیشنل

یمن

یمن کی جنگ میں ایک نیا اور غیر متوقع موڑ سامنے آیا ہے۔ علاقائی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن میں ایک ایسی اسلحہ شپمنٹ کو نشانہ بنایا ہے

جسے متحدہ عرب امارات سے منسلک قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس واقعے کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم یہ پیش رفت یمن میں سعودی عرب اور امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔

یمن کی تاریخی تقسیم
تاریخی طور پر یمن دو حصوں میں منقسم رہا ہے۔
شمالی یمن میں شیعہ آبادی کی اکثریت تھی اور وہاں مقامی حکومت قائم تھی۔

انگریز دور میں منقسم یمن

جنوبی یمن طویل عرصے تک برطانوی قبضے میں رہا۔
بعد ازاں دونوں حصے متحد ہوئے اور سعودی عرب کے قریبی اتحادی علی عبداللہ صالح متحدہ یمن کے صدر بنے۔ تاہم اتحاد کے بعد بھی شمالی علاقوں کو مسلسل نظر انداز کیے جانے کے الزامات سامنے آتے رہے۔

حوثیوں کا عروج اور 2015 کی جنگ

شمالی یمن میں حکومتی عدم توجہی کے نتیجے میں شیعہ تحریک حوثی مضبوط ہوتی گئی۔
2011 کی عرب بہار کے دوران حوثیوں کو مزید سیاسی و عسکری طاقت ملی، جسے سعودی عرب نے اپنے لیے خطرہ سمجھا۔
بالآخر 2015 میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مل کر حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ یہ جنگ چند دنوں کی سمجھی جا رہی تھی، مگر برسوں پر محیط ہو گئی۔

عملی تقسیم: شمال اور جنوب

طویل جنگ کے بعد یمن عملی طور پر دوبارہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا:
شمالی یمن میں حوثیوں کی حکومت

جنوبی یمن میں سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ مختلف گروہ
امارات کا انخلا اور نئی حکمتِ عملی
2019 میں متحدہ عرب امارات نے باضابطہ طور پر یمن سے فوجی انخلا کا اعلان کیا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس نے جنوبی یمن میں اپنی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو منظم کیا تاکہ اپنے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ جاری رکھ سکے۔

حالیہ مہینوں میں انہی اماراتی حمایت یافتہ گروہوں نے سعودی حمایت یافتہ دھڑوں کو بعض علاقوں میں شکست دے کر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
اسرائیل، جنوبی یمن اور آبی گزرگاہیں
یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہو گیا جب بعض جنوبی یمنی گروہوں نے نہ صرف جنوبی یمن کی آزادی بلکہ مستقبل میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اشارے بھی دیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا ہونے کی صورت میں ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر اسرائیلی اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے، جو خطے کی طاقت کی سیاست کو بدل دے گا۔

سعودی عرب کا ردعمل

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے حالیہ عرصے میں حوثیوں کے ساتھ محدود مفاہمت کی راہ اختیار کی ہے، مگر اس کے باوجود ریاض کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ شمال اور جنوب دونوں پر اس کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے۔

اسی تناظر میں امارات سے منسوب اسلحہ شپمنٹ پر حملے کی خبر کو سعودی ناراضی کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی-اماراتی تعلقات کا مستقبل

ماہرین کے مطابق اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مفادات اب یمن میں واضح طور پر مختلف ہو چکے ہیں، تاہم مکمل تصادم کے بجائے معاملات کے سفارتی حل کی جانب جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ دونوں ممالک طویل جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے اختلافات کے باوجود کھلی جنگ کا امکان کم سمجھا جا رہا ہے۔

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں