197

بالی ووڈ سٹار سلمان کے سعودی عرب میں منعقدہ میگا ایونٹ میں تقریباً 80 ہزار افراد نے شرکت کی

بالی وڈ سٹار سلمان خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پرفارم کرنے پہنچے تھے۔ ان کے اس ٹور کو ‘دبنگ ٹور’ کا نام دیا گیا ہے۔



سعودی عرب جسے ایک قدامت پسند ملک تصور کیا جاتا ہے اب تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور اس کی واضح مثال وہاں حال ہی میں ہونے والے بالی وڈ سٹار سلمان خان اور بین الاقوامی معروف گلوکار جسٹن بیبیر کے کنسرٹ ہیں۔

سلمان خان کے علاوہ ان کے ساتھ بالی وڈ فلمسٹار شلپا شیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور دیگر ساتھی فنکار جلوہ گر ہوئے۔



سعودی حکومت نے پہلی مرتبہ اس بڑے پیمانے پر بالی وڈ ایونٹ کا انعقاد ’روشن خیال’ سعودی عرب کے تحت کیا تھا۔

اس میگا ایونٹ میں اطلاعات کے مطابق 80 ہزار افراد نے شرکت کی اور بالی وڈ کے بھائی سلمان خان نے اس کنسرٹ میں شاندار انٹری کے ساتھ اپنی پرفارمنس کا جادو جگایا۔



اس سے قبل معروف بین الاقوامی گلوکار جسٹن بیبر نے بھی چھ دسمبر کو ریاض میں ایک کنسرٹ کیا تھا جس میں تقریباً 70 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔

سلمان خان کے ریاض میں کنسرٹ سے قبل انھیں اعزاز دینے کے لیے ان کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔

سعودی عرب اب بالی وڈ اور ہالی وڈ سٹارز کے ایونٹ منعقد کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ روشن خیالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے اہم ترین ممالک میں سے ایک ہے دنیا میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔ تاہم گذشتہ کچھ سالوں سے سعودی حکمرانوں کی کوشش ہے کہ وہ اپنی تجارت اور معیشت کا انحصار تیل کے علاوہ دیگر ذرائع پر کریں۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ارادہ ہے کہ ان کے ’ویژن 2030‘ کے تحت اگلے آٹھ برسوں میں سعودی عرب کو معاشی اور تجارتی مرکز بنا دیا جائے۔



گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے ملکی تاریخ کی پہلی فارمولا ون کار ریسنگ کے ایونٹ کا انعقاد بھی کیا تھا۔

لیکن جہاں ایک جانب سعودی عرب روشن خیالی کے تاثر قائم کرنے کے کوشش کر رہا ہے وہی گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے اپنے ملک میں تبلیغی جماعت کو ‘معاشرے کے لیے خطرناک’ قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کی نماز کے خطبے میں تبلیغی جماعت کی معاشرے کے خطرات کے متعلق بیان کریں۔ سعودی وزارت نے تبلیغی جماعت کو ‘دہشت گردی کی جانب پہلا قدم’ قرار دیا تھا۔

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں