211

سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اور خطے پر اثرات

سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اور خطے پر اثرات

سعودی عرب یمن تنازعہ

نیوز ڈیسک (9نیوز) ریاض

سعودی عرب اور ایران میں تعلقات کی بحالی کے اثرات یمن میں جاری جنگ کے تناؤ کو بھی کچھ حد تک کم کرتے ہیں۔ تاہم ملک کے مختلف دھڑوں کے متضاد موقف اب بھی حل طلب ہیں، اس لیے تنازعے کے ساتھ ہی جانوں کا اتلاف بھی جاری ہے۔

یمن میں قید افراد کے سینکڑوں خاندانوں کے لیے یہ ہفتہ کچھ امید لے کر آیا ہے۔

یمن میں ایک خاتون ضروریات زندگی کیلئے کھلونے بیچتے ہوئے

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہینس گرنڈبرگ نے گزشتہ پیر کے روز جنیوا میں اعلان کیا کہ ”آج کا دن کافی اچھا دن ہے۔”

انہوں نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یمن میں دو اہم متحارب فریقوں، حکومت اور حوثی باغیوں، کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں قیدیوں کے تبادلے کے بعد اگلے تین ہفتوں کے اندر سینکڑوں خاندان دوبارہ ایک دوسرے سے مل سکیں گے۔

یمن کی حکومت کی نمائندگی کرنے والی صدارتی قیادت کونسل نے 706 زیر حراست حوثیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا ہے، جب کہ حوثی باغیوں نے کہا کہ وہ اس کے بدلے میں 181 قیدیوں کو رہا کر دیں گے۔

اس کی وجہ سے حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ کے لیے برسوں کے انتظار کے بعد امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔

عدن میں ایک 30 سالہ خاتون نجات محمد نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ”قیدیوں کے اس تبادلے سے میری تمام امیدیں وابستہ ہیں اور انتظار کر رہی ہوں

کہ میرے شوہر گھر واپس آ کر مجھ سے اور ہمارے چار بچوں سے ملاقات کر سکیں گے۔ ان کی ہماری اس بیٹی سے بھی ملاقات ہو سکے گی، جو سن 2015 میں جب وہ فوج میں شامل ہوئے تھے، تب وہ حمل میں تھی۔”

انہوں نے بتایا کہ سن 2018 میں انہیں پکڑا گیا تھا اور حوثی باغیوں نے انہیں قید کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک وہ ہر ماہ کچھ نہ کچھ رقم گھر بھیجتے تھے، لیکن پچھلے چار سالوں سے ان کے بارے میں کوئی معلومات یا رقم نہیں ملی۔

ان کا مزید کہنا تھا، ”میں استعمال شدہ پانی کی بوتلیں جمع کرتی ہوں اور فروخت کرتی ہوں تاکہ ہمارے کھانے کے لیے پیسے جمع ہو سکیں۔”

صنعا میں اب 28 سالہ حوثی جنگجو مطہر کے خاندان کو بھی امید ہے کہ ان سے جلد ہی دوبارہ ملاقات ہو سکے گی۔ تین برس قبل مطہر نے 25 سال کی عمر میں باغی افواج میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس کے فوراً بعد ہی سرکاری فوج نے انہیں قید کر لیا۔

ان کی بہن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ اور ان کے رشتہ دار پرامید ہیں کہ وہ جلد ہی اسے دوبارہ اپنے بازوؤں میں لے سکیں گے۔

یمن میں خانہ جنگی سن 2014 کے اواخر میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

یہ جنگ 2015 میں اس وقت بڑھی جب سعودی عرب کی قیادت والے مصر، اردن، سوڈان اور متحدہ عرب امارات سمیت نو ممالک کے اتحاد نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سابق حکومت کو بحال کرنے کی کوشش کے تحت مداخلت کی۔

یمن کے تنازعے کو سنی سعودی عرب اور شیعہ ایران کے درمیان پراکسی جنگ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن کی آبادی کی صورت حال دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک بن چکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 2015 سے اب تک تقریباً 375,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو کل آبادی کا 1.25 فیصد ہیں۔

سعودی ایران تعلقات کے نتائج

حال ہی میں چین کی ثالثی میں سات برس کے منجمد تعلقات کے بعد سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات دوبارہ بحال کرنے کا معاہدہ ہوا ہے اور اس ہفتے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر بھی اس کے گہرے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ سعودی عرب کچھ عرصے سے یمن میں جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے جب کہ ایران بھی ملک میں جاری مظاہروں کے پیش نظر ملکی سیاست پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان میل جول اور قیدیوں کے تبادلے سے یمن میں کشیدگی میں کچھ کمی تو ہو سکتی ہے، تاہم دونوں میں سے کسی ایک کے بس میں تنازع ختم کرنے کی سکت نہیں ہے۔
یورپی کونسل میں خارجہ تعلقات کے ایک ریسرچ فیلو نزیا بیانکو نے 9نیوز کو بتایا۔

”ان معاہدوں کا مقامی حرکیت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر سعودی حمایت یافتہ حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان کسی معاہدے پر دستخط بھی ہو جائیں، تو بھی مقامی گروہوں کے درمیان مزید لڑائی ہو گی۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی ایران معاہدہ، ”یمن میں جنگ کی علاقائی جہت کو ختم کرتا ہے لیکن جنگ کو ختم نہیں کرتا۔

یہ بنیادی طور پر یمن میں سعودی بمباری اور سعودی سرزمین پر حوثیوں کے سرحد پار حملوں کو ختم کرتا ہے۔ اس سے یمن کے مستقبل میں حوثیوں کو بھی ایک سیاسی فریق کا درجہ مل سکے گا۔”

حوثی مزید علاقوں پر قبضہ چاہتے ہیں

بیانکو کہتی ہیں کہ خود یمن کے دو اہم فریق، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی باغی، ”امن میں دلچسپی رکھتے ہیں۔” تاہم ان کا ماننا ہے کہ حوثی اپنے موجودہ علاقائی کنٹرول سے مطمئن نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ حوثی اس وقت شمالی اور مغربی یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں۔

بیانکو نے 9 نیوز کو بتایا، ”رمضان کے بعد، جو 21 اپریل کو ختم ہوگا، وہ دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں، مثال کے طور پر، شمال میں حکومت کے زیر قبضہ صوبے معارب یا جنوب میں شبواہ پر، کیونکہ ان دونوں علاقوں میں تیل ہے اور اس لیے اس میں دلچسپی ہے۔”

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسی ہفتے منگل کی رات کو حوثیوں کے حملے میں کم از کم 10 سرکاری فوجی مارے گئے۔

یمنی تھنک ٹینک ‘صنعا سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز’ کے شریک بانی اور تجزیہ کار ماجد المدھاجی نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ”ایک واضح سیاسی پیغام ہے کہ تہران اور ریاض کے درمیان کے معاہدے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باغی فوری طور پر ہتھیار ڈال دیں گے۔

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں