اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنئیر جج جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر
نیوز ڈیسک(9نیوز) اسلام آباد

ہائوسنگ سوسائٹی میں پلاٹس،پی ٹی آئی کو ریلیف دینے اور قبضہ گروپوں کی سرپرستی کے الزامات
متاثرین جی چودہ کا کیس بھی کئی ماہ لٹکانے کے بعد انہوں نے ایک گول مول سا فیصلہ سناتے ہوئے ہاؤسنگ اتھارٹی کے حق میں فیصلہ دیا تھا
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنئیر جج جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔

ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی کے اثاثہ جات آمدن سے کہیں زیادہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اثاثے چھپائے ہیں،
سابق ایسوسی ایٹس کو نوازنے کے ساتھ ساتھ قبضہ مافیا کی سرپرستی کی ہے،
وکیل تھے تو لوئر کورٹ کے ساتھ معاملات طے کراتے رہے۔
دوران وکالت بھی قبضہ گروپوں کی معاونت کرتے رہے اور اب جج بن کر قبضہ گروپوں کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کئی ایک ہاؤسنگ سوسائٹیز میں غیر قانونی پلاٹ بھی حاصل کر رکھے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وکیل مرتضی قریشی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرکیا ہے۔
درخواست گزار نے ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جسٹس محسن احترکیانی نے اربوں روپے کی پراپرٹی کیسے بنائی، غیر ملکی دوروں میں کروڑوں روپے خرچ کئے، قبضہ مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔
درخواست میں موقف پیش کیا گیا کہ جسٹس محسن اختر کیانی کے اثاثہ جات آمدن سے زیادہ ہیں، ان کے 18کروڑ سے زائد کے اثاثے ہیں، اور انہوں نے 5.6 کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کئے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جسٹس محسن اخترکیانی کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔
یاد رہے کہ یہ جسٹس محسن اختر کیانی ہی تھے جن کی عدالت میں متاثرین جی چودہ کا کیس تھا اور انہوں نے کیس کو کافی لمبے عرصے تک لٹکانے کے بعد ایک گول مول سا فیصلہ دیا اور مظلوم متاثرین کی دادرسی کے بجائے ہاؤسنگ اتھارٹی کے مفادات کو مقدم رکھا تھا۔
جس کے باعث اکثر حقیقی متاثرین جو صدیوں سے یہاں آباد تھے۔ہاؤسنگ فائونڈیشن نے انہیں بے دردی سے بے دخل کر دیا تھا۔
بیشتر حقیقی متاثرین کو نا پلاٹ مل سکے اور نا ہی موجودہ ریٹ کے مطابق مکانوں کا معاوضہ مل سکا تھا
یاد رہے کہ محسن اختر میڈیا سے خوفزدہ وہی جج ہیں جنہوں نے ایک بار دوران سماعت میڈیا پر بھی پابندی عائد کر دی تھی کہ وہ ان کے ریمارکس کو رپورٹ نہ کر سکیں








