احسن یونس پاکستان کے کامیاب ترین بیوروکریٹ کے خلاف میڈیا ٹرائل جاری بدنیتی پر مبنی اور حقائق کے برعکس ہے

آج اچانک راولپنڈی اسلام آباد کے مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا پر احسن یونس کے خلاف مبینہ طور پر رشوت دینے کی خبریں گردش کرنے لگی تو مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ایک ایماندار اور جانفشانی سے کام کرنے والے بیوروکریٹ کے خلاف اس قدر گھٹیا اور گری ہوئی خبریں بغیر تصدیق و تحقیق کے لگانے والوں کو صحافی ہونے پر کچھ تو حیاء آئی ہوگی…؟
وہ عناصر جو احسن یونس جیسے بہادر اور بے باک آفیسر کے خلاف میڈیا ٹرائل کروانا چاہتے ہیں، انکے ذاتی مفادات اور جرم اور قانون کی ایک نا ختم ہونے والی جنگ ہے جو ازل سے ابد تک جاری رہے گی، لیکن حسرت ان صحافیوں پر ہے جو بغیر تحقیق کے مافیا کے ہاتھوں اپنا قلم بیچ دیتے ہیں۔
احسن یونس صاحب جب سی پی او راولپنڈی بنے تو میرا ان سے غائبانہ تعارف ہوا اور یقین جانے کہ آج تک ان سے ملاقات کا شرف حاصل نا ہوسکا،چونکہ پولیس اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اس لئے میرے پاس جتنی خبریں ان کے بارے میں ایک دن میں آتی تھیں شائد ہی کسی اور بیوروکریٹ کے بارے میں ملتی ہوں،
باجماعت نماز کروانے والا احسن یونس صبح سے لیکر رات گئے تک عوام کی خدمت کو عبادت سمجھتے ہوئے ہر وقت اور ہر جگہہ پہنچ جاتے تھے
کسی ریڑھی بان سے معافی مانگنے سے لیکر آفیسرز اور پولیس اہلکاروں کے کھانے کیلئے میس بنانے، جم خانے،
پولیس اہلکاروں کے بچوں کے روشن مستقبل، خاتون تحفظ مرکز، ٹرانسجینڈرز کو تحفظ کی فراہمی، منشیات کے خلاف تیز ترین آپریشنز، قبضہ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں، اور ایسے اشخاص کے خلاف کاروائیاں جو دہشت کی علامت سمجھے جاتے تھے جن میں فرخ کھوکھر اور بلیو ورلڈ سٹی کے مالکان وغیرہ سرفہرست ہیں،
راولپنڈی سے مختلف گینگز کے خاتمے کیلئے بلا تفریق کاروائیاں ( اس سے پہلے راولپنڈی میں مختلف ناموں سے گینگز پروان چڑھ رہے تھے)
ایف 6 اسلام آباد میں پاکستان کا سب سے بڑے 24/7 کام کرنے والے خدمت مرکز کا قیام اور روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری اور افسران و اہلکاروں کی سائلین کی دی گئی درخواستوں پر 48 گھنٹوں میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا،

پولیس شہداء اور انکی فیملیز کو مکمل پروٹوکول فراہم کرنا اور میڈیا سیل کے ذریعے کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ کیلئے کوششیں کرنا،

آج احسن یونس کی ہی روایات کے مطابق پولیس کے اعلیٰ افسران ایک عام آدمی کی پہنچ میں ہیں،

احسن یونس جب آئی جی اسلام آباد بنے تو انہوں نے آتے ہی قبضہ مافیا اور منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنی روایت یا عادت کے مطابق کھلی کچہری کا آغاز کیا، سائلین کے مسائل کے حل کیلئے اسی وقت افسران کو ہدایات ملنے لگیں،
احسن یونس کی خدمت کی پیاس کو جب اس سے بھی تسکین نا ملی تو ای کچہری کا آغاز کیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر لائیو کچہری لگانا شروع کر دی تاکہ ایسے سائلین جو کسی بھی وجہ سے کھلی کچہری میں حاضر نہیں ہو سکتے وہ فیس بک کھلی کچہری میں اپنی شکایت درج کروا سکیں تاکہ ان لوگوں کے مسائل بھی حل کئے جا سکیں،

احسن یونس ان لینڈ مافیا کے خلاف بھی ڈٹے رہے اور ہر قسم کا پریشر برداشت کیا جن مافیاز نے سیاسی اثر ورسوخ سے اپنی پرائیوٹ ملیشیاء بنا رکھی تھی، زبان زد عام ہے کہ ایسے مافیاز کے خلاف گورنر پنجاب تک نہیں بول پاتے تھے ان کے خلاف احسن یونس کی واضح کاروائیاں میڈیا ریکارڈ کا حصہ ہیں، صحافی برادری اور خاص طور پر احسن یونس کے خلاف میڈیا ٹرائل کرکے بدنام کرنے کی مذموم کوشش کرنے والے صحافی ضرور اس پر تحقیقات کریں،
مجھے بذات خود راولپنڈی پولیس اور احسن یونس کے خلاف خبر لگانے کیلئے 10 لاکھ روپے کی آفر کی گئی تھی لیکن میں نے جھوٹی خبر لگانے سے معذرت کر لی تھی، تو خود سوچیں ان پولیس آفیسرز اور خود احسن یونس صاحب کو کیا کچھ آفرز ہوتی ہونگیں؟
اور اب بھی مجھے یقین ہے کہ احسن یونس کے خلاف مبینہ رشوت کی خبر اس لئے لگائی گئی ہے تاکہ ان کا اسلام آباد سے تبادلہ ممکن ہو ڈرگ ڈیلرز اور قبضہ مافیا جو احسن یونس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے تنگ آچکے ہیں اس غیر یقینی سیاسی صورتحال کا فائدہ اٹھا سکیں۔
احسن یونس نے نا صرف عام آدمی کو قانون کی بالادستی کا یقین دلاتے ہوئے بڑے بڑے مافیاز کو لگام ڈالی ہیں بلکہ اپنی کارکردگی سے کئی افسران کو متاثر کرکے ان کیلئے مشعل راہ بھی ثابت ہوئے ہیں۔ احسن یونس نے پاکستان پولیس سروس میں بہترین آفیسرز بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور صرف راولپنڈی سے انہوں نے کئی نامور آفیسرز کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں عوام کا صحیح معنوں میں خدمت گار بنایا ہے،
ان پولیس آفیسرز میں چند نام ایسے ہیں جنکی ایمانداری، خلوص نیت اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کوششوں کو کوئی بھی شخص جھٹلا نہیں سکے گا، ان میں نمایاں نام، عمران خان( پی ایس پی) رائے مظہر، فیصل کامران، بینش فاطمہ، سجاد الحسن، سید قرار حسین، اور دیگر کئی پولیس سروسز کے درخشاں ستارے موجود ہیں








