نشتر ہسپتال کی چھت پر 500 لاوارث لاشیں پھینکے جانے کا انکشاف
مانیٹرنگ ڈیسک (9نیوز) ملتان
نشتر ہسپتال ملتان میں لاوارث انسانی لاشوں کی برآمدگی سے خوف وہراس پھیل گیا جس کے بعد واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نشتر ہسپتال کے ڈیڈ لائوس کی چھت سے 5 سو سے زائد لاوارث انسانی لاشوں کی باقیات برآمد ہوئی ہیں جس کے بعد میں ہسپتال میں شدید خوف وہراس پھیل گیا۔ سنگین غفلت کی نشاندہی چوہدری زمان گجر مشیروزیراعلیٰ پنجاب نے ہسپتال کے دورے کے دوران کی تھی جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ثاقب ظفر (ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب) نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی بنا دی ہے جو واقعے کی مکمل تحقیقات کرنے کے بعد 3 دن میں اپنی رپورٹ دے گی۔ 6رکنی انکوائری کمیٹی کی سربراہی مزمل بشیر (ایڈیشنل سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر) کرینگے، انکوائری کمیٹی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اخلاقیات قوموں کی تعمیر کرتی ہیں، اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں
دوسری طرف لاوارث انسانی لاشوں کی برآمدگی پر ہسپتال کے شعبہ اناٹومی کے سربراہ کا موقف سامنے آیا ہے کہ لاوارث انسانی لاشوں کو پیوری فیکیشن کے عمل سے گزارا جاتا ہے جس کیلئے انہیں چھت پر رکھا جاتا ہے۔
سربراہ شعبہ اناٹومی ڈاکٹر مریم اشرف نے تحریری طور پر وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کو تحریری طو ر پر بتایا کہ پولیس کی طرف سے پوسٹ مارٹم کیلئے لائی گئی لاوارث لاشوں کو فریز کرنا ناممکن ہوتا ہے جبکہ ان کو ٹیچنگ کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پیوری فیکیشن کے عمل کے بعد لاش کی ہڈیوں کو طلباء وطالبات کو سکھانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور ہڈیاں نکالنے کے بعد ہی لاشوں کی تدفین ایس او پیز کے مطابق کی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس لینے کے بعد نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی نے بھی 3 رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ، ڈاکٹر طارق پیرزادہ اور پروفیسر ڈاکٹر عباس نقوی شامل ہیں۔
نشترمیڈیکل یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق لاوارث انسانی لاشوں کو جالی سے بند کمروں میں چھت پر رکھا جاتا ہے جبکہ ٹیچنگ مقاصد کیلئے حاصل کی گئی ہڈیاں بھی قانون کارروائی کے بعد لی جاتی ہیں اور لاشوں کی تدفین متعلقہ پولیس سٹیشن کے ذریعے ہی کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے چند ماہ قبل سی پی او کو جاری کیے گئے مراسلے میں لاوارث لاشوں کی تدفین ایس ایچ او ملتان کینٹ کو ایس او پیز کے مطابق یقینی بنانے کا کہا گیا تھا۔








