228

اخلاقیات قوموں کی تعمیر کرتی ہیں، اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں

اخلاقیات قوموں کی تعمیر کرتی ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک (9نیوز) سپین

دوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ عبدالمطیع سب سے آگے تھا، مگر اس نے سمجھا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے۔

Spain athletic club

اس کے بالکل پیچھے سپین کا رنر ایون فرنینڈز دوڑ رہا تھا- اس نے جب دیکھا کہ مطیع غلط فہمی کی بنیاد پر رک رہا ہے تو اس نے اسے آواز دی “دوڑو ابھی فنش لائن کراس نہیں ھوئی”

غیر ملکی خاتون وی لاگر کو ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار

عبدالمطیع اس کی لینگوئج نہیں سمجھتا تھا اس لئیے وہ بالکل سمجھ نہیں سکا۔ یہ بہترین موقع تھا کہ فرنینڈز اس سے آگے نکل کے دوڑ جیت لیتا مگر اس نے عجیب فیصلہ کیا اس نے عبدالمطیع کو دھکا دے کے فنش لائن سے پار کروا دیا۔

تماشائی اس اسپورٹس مین اسپرٹ پر دنگ رہ گئے، فرنینڈز ہار کے بھی ہیرو بن چکا تھا۔
ایک صحافی نے بعد میں فرنینڈز سے پوچھا تم نے یہ کیوں کیا؟
فرنینڈز نے جواب دیا
“میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں کوئی دوسرے کو اس لئے دھکا دے تاکہ وہ جیت سکے۔”

صحافی نے پھر پوچھا “مگر تم نے کینیا کے ایتھلیٹ کو کیوں جیتنے دیا؟”
فرنینڈز نے جواب دیا:
“میں نے اسے جیتے نہیں دیا، وہ ویسے ہی جیت رہا تھا، یہ دوڑ اسی کی تھی”
صحافی نے اصرار کیا” مگر تم یہ دوڑ جیت سکتے تھے؟”
فرنینڈز نے اس کی طرف دیکھا اور بولا
” اس جیت کا کیا میرٹ ہوتا؟ اس میڈل کی کیا عزت ہوتی؟ میری قوم میرے بارے میں کیا سوچتی؟”

اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو کیا سکھانا چاہئیے، “بلاشبہ یہ کہ جیتنے کےلئے کوئی بھی ناجائز طریقہ اختیار نہیں کرنا۔” وہ آپ کی نظر میں جیت ہوسکتی ہے، دنیا کی نظر میں آپ کو بددیانت کے علاوہ کوئی خطاب نہیں ملے گا.

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں