میا خلیفہ کا فلسطین کے حق میں آواز اٹھانا ملالہ یوسفزئی کو مہنگا پڑ گیا
ویب ڈیسک (9نیوز) نیویارک

لبنانی نژاد امریکی ماڈل میا خلیفہ کی طرف سے فلسطین پر اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کرنا نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کو مہنگا پڑ گیا ہے
جو اسرائیل کی اس بربریت پر تاحال چپ سادھے ہوئے ہیں۔
روزنامہ 9 نیوز کے مطابق پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ملالہ یوسف زئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی پوسٹس میں پوچھ رہے ہیں کہ ”میا خلیفہ تک نے نہتے فلسطینیوں پر غاصب اسرائیل کے مظالم کی مذمت کر دی، کیا ملالہ نے اسرائیل کی مخالف میں ایک لفظ بھی بولا؟“
رپورٹ کے مطابق میا خلیفہ نے اپنے ایکس (ٹوئٹر) اکاﺅنٹ پر متعدد پوسٹس میں اسرائیل کے مظالم کی مذمت اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ایک پوسٹ میں وہ لکھتی ہیں کہ ” فلسطینیوں کی اس حالت کو دیکھ کر جو لوگ ان کی حمایت نہیں کر رہے، تاریخ بتائے گی کہ وہ لوگ غلط سمت میں کھڑے تھے۔
میا خلیفہ کی اس پوسٹ پر ایک پاکستانی صارف نے لکھا کہ ”میا خلیفہ پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی سے زیادہ واضح انداز میں فلسطینی عوام کی حمایت کر رہی ہیں۔
میا خلیفہ نے اس صارف کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”ملالہ یوسف زئی کو اپنے جذبات کے اظہار کے لیے وقت دینا چاہیے۔ وہ بہت سے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔“
ہاشم راجپوت نامی ایک ایکس صارف نے ملالہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ”حتیٰ کہ میا خلیفہ بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف بول رہی ہیں، ملالہ نے اب تک ایک لفظ بھی نہیں کہا۔“
میر محمد علی خان اپنی ایکس پوسٹ میں لکھتے ہیں ”میری پیاری بیٹی ملالہ، اسرائیل چوبیس گھنٹوں سے فلسطینی بچیوں کو سرعام قتل کر رہا ہے۔ بیٹا آپ لڑکیوں کی پڑھائی کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ تو میں نے سوچا شاید ان کی زندگی بچانے کے لیے بھی کرتی ہوں گی کیونکہ زندگی رہے گی تو یہ لڑکیاں پڑھیں گی ناں۔ تو مجھے یقین ہے کہ آپ۔۔








