کوہستان پانچ بھائی چار گھنٹے بے رحم موجوں کیساتھ لڑتے رہے
مانیٹرنگ ڈیسک (9نیوز)پشاور
آج دوبیر کوہستان میں پانچ بھائی سیلابی ریلے کے بیچوں بیچ پورے چار گھنٹے زندگی اور موت کے درمیان جھولتے رہے،
سوشل میڈیا پر بھرپور دہائیوں کے باوجود صوبائی حکومت ایک ہیلی کاپٹر پشاور سے نہ بھیج سکی جسے آنے اور جانے میں فقط ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ہی لگتا۔
ہمیں یاد ہے جب تین سال قبل چترال گولین میں عمران خان کی بہن علیمہ خان سیلاب میں پھنس گئی تھی۔ جسے ایک ڈیڑھ گھنٹے کے اندر خصوصی ہیلی کاپٹر بھجوا کر ریسکیو کیا گیا تھا لیکن آج چار گھنٹے سے زائد تک پانچ بھائی بے رحم موجوں کے بیچ مدد کیلئے چیختے رہے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نا رینگی..!
یوں بیچ منجھدار ایک ہی خاندان کے چار جوان دیکھتے ہی دیکھتے سیلابی موجوں کے نذر ہوگئے اور ایک آدھ مرے کو سیلاب خود ہی کنارے چھوڑ گیا ۔۔۔!
زندگی کی امید اور موت کے وہم کا یہ درمیانی عرصہ گو کہ ہمارے لئے ایک مختصر دورانیہ تھا، لیکن ان بے یار و مددگار بھائیوں کےلئے یہ وقت کس قدر طویل اور کٹھن رہا ہوگا ؟
کنارے کھڑے بےبس تماش بین میں ان کے ورثاء کےلئے یہ کیسی قیامت کی گھڑیاں رہی ہونگی؟
اور اب اس پسماندہ گھرانے میں سوگ کا کیا سماں ہوگا؟
ہمیں ان چاروں جوانوں کی اس اندوہناک موت پر نہیں، ہمیں مل بیٹھ کر ریاست اور نظامِ حکومت، حکمران اور ان میں منقسم رعایا کی بے حسی اور ناکامی پر بین کرنا چاہیئے۔ مل کر سر پیٹنا چاہیئے، اور دردناک ایسے انجام کی اپنی اپنی باری کا انتظار کرنا چاہیئے ۔۔۔ !








