136

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف دہشت گردی کی دفعہ ختم کرنے کا حکم دے دیا.

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف دہشت گردی کی دفعہ ختم کرنے کا حکم دے دیا.

نیوزڈیسک (9نیوز) اسلام آباد

Imran Khan Speech, Imran Khan jalsa

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔ اسلام آبادہائیکورٹ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔

عمران خان توہین عدالت کے مرتکب قرار، عدالتی تحریری حکمنامہ جاری

پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ عمران خان نے تقریر میں اشتعال دلایا، وہ سابق وزیراعظم اور شائد مستقبل کے بھی وزیراعظم ہوں،جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں شامل جرائم کی دفعات میں سے کوئی ایک دفعہ بھی نہیں بنتی۔

نے کہا کہ عمران خان کے فالورز میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ لوگ بھی شامل ہیں، اگر ایس ایچ او کسی کو کہے کہ میں تمہیں دیکھ لوں گا تو اس کے سنجیدہ اثرات اور نتائج ہو سکتے ہیں، بالکل اسی طرح سابق وزیر اعظم کے اس اشتعال انگیز بیان کے بھی اثرات ہیں۔

کارکن ہر طرح کے دباؤ اور ہراسانی کا مقابلہ کر رہے ہیں،عمران خان

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ دہشتگردی کے قانون کی تشریح کر چکی ہے، بادی النظر میں ایک بھی دفعہ اس مقدمے میں بنتی نظر نہیں آتی، فائرنگ کرنے والے سکندر کے کیس میں ڈیزائن الگ تھا ، یہاں آپ خود مان رہے ہیں تقریر کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔

عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ میں نے بار بار آپ سے پوچھا کہ تقریر کے علاؤہ اگر کوئی جرم ہے تو وہ بتائے، جس کیس کا آپ حوالہ دے رہے اس میں جرم کیا ہے ؟ ۔

اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ جس کیس کا حوالہ دیا اس میں ملزم پر بھتہ لینے کا الزام تھا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بھتہ اور تقریر میں فرق ہے تو یہ بھی واضح ہے کہ دونوں کیسسز کے جرم میں فرق ہے۔

اسپیشل پراسیکوٹر رضوان عباسین نے کیس میں چالان جمع کرنے کی استدعا کردی۔

عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ ہم نے آپ کے کسی بھی دستاویزات کو نہیں دیکھا آپ نے خود کہا کہ تقریر کے علاؤہ کچھ نہیں ہے۔
اسپیشل پراسیکوٹر رضوان عباسی نے عمران خان کی دہشت گردی مقدمہ خارج کرنے کی مخالفت اور عمران خان کی درخواست خارج کرنے کی استدعا کی۔

عدالت نے دلائل سسنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں