حکمران اتحاد ڈٹ گیا،عمران خان کا مطالبہ مسترد
نیوز ڈیسک(9نیوز) اسلام آباد
13 جماعتی حکمران اتحاد نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے ملک میں جلد عام انتخابات کا مطالبہ دو ٹوک انداز میں مسترد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکمران اتحاد کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں عمران خان کے مطالبات اور الزامات پر سخت ردعمل دیا گیا ہے
اور وزیراعظم شہباز شریف، سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کےخلاف بیانا ت اور الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
اعلامیہ میں عمران خان کی جانب سے جلد عام انتخابات کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک میں انتخابات کب ہونے ہیں اس کا فیصلہ حکومتی اتحادی جماعتیں کریں گی، کوئی جھتہ طاقت کےزور پر اپنے فیصلے مسلط کرے اس کی اجازت نہیں دی جائے گی،
13 جماعتی اتحاد @ImranKhanPTI کے خلاف ڈٹ گیا، عمران خان کے جلد الیکشن کے مطالبے کو مسترد کر دیا pic.twitter.com/qrbCFbdBMz
— 9News (@9Newstv) October 17, 2022
قانون اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف آئین و قانون حرکت میں آئے گا،غنڈہ گردی، دھونس کی بنیاد پر آئین ، جمہوریت اور نظام کو غلام بننے نہیں دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماء اعظم خان سواتی کے بارے عدالت کا بڑا حکم جاری
اعلامیہ کے مطابق اس وقت ملک کی معیشت اور سیلاب متاثرین کی بحالی قومی ترجیح ہے اور اس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، معیشت کی پٹڑی پر واپسی اور سیلاب متاثرین تک وسائل کی فراہمی کے عمل کو متاثر ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی،
حکومت ، اداروں اور عوام کے درمیان یہ اتفاق موجود ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان قانون کے مطابق اس تقرری کا فیصلہ کریں گے، یہ تقرری فارن فنڈڈ فتنے کی دھونس، دھمکی یا ڈکٹیشن پر نہیں ہوگی،
آرمی چیف، حساس اداروں کے سربراہان اور دیگر آئینی اداروں کے سربراہان کو نشانہ بنانے کا مقصد صرف اور صرف بلیک میلنگ ہے۔
یہ سیاسی رویہ نہیں بلکہ ایک سازش کا حصہ ہے، اقتدار سے محروم شخص قومی اداروں کو ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کے تحت نشانہ بنارہا ہے،
فوج میں بغاوت کے بیانات اور حوصلہ افزائی،شہداء کے خلاف غلیظ مہم ملک دشمنی کے مترادف ہے، ان اقدامات کے خلاف آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔








