حریم شاہ نازیبا ویڈیو کیس، ٹک ٹاکر صندل خٹک کی درخواست ضمانت منظور
نیوزڈیسک (9نیوز) اسلام آباد

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی خصوصی عدالت نے ٹک ٹاکر حریم شاہ کی نازیبا ویڈیو لیک کیس میں ٹک ٹاکر صندل خٹک کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی۔
تفصیلات کے مطابق صندل خٹک کو ایف آئی اے کے اہلکاروں نے 12 جون کو اسلام آباد کی عدالت سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ قبل از گرفتاری کی ضمانت کروانے کے لیے وہاں پہنچی تھیں۔
جج اعظم خان نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ صندل خٹک کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی، جس کے بعد ایف آئی اے نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔
گزشتہ روز (20 جون) کو خصوصی عدالت میں ایک بار پھر سماعت ہوئی، سماعت کے دوران صندل خٹک کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے ٹک ٹاکر کو کیس کی انکوائری یا تفتیش کے حوالے سے نوٹس جاری نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ صندل خٹک نے لائیو اسٹریمنگ شئیر کی تھی، ریکارڈنگ نہیں کی، تحقیقاتی ایجنسی کو صندل خٹک کے موبائل سے کوئی ثبوت نہیں ملا۔
وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حریم شاہ کی جب ویڈیوز بنائی گئیں تو تب وہ ہنس رہی تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویڈیوز ان کی رضامندی سے بنائی گئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صندل خٹک نے اپنا موبائل تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دیا ہے جبکہ حریم شاہ نے ابھی تک اپنا موبائل تفتیش کاروں کے حوالے نہیں کیا۔
سماعت مکمل ہونے کے بعد جج اعظم خان نے صندل خٹک کی ضمانت منظور کر لی۔
مقدمے کا پس منظر
یاد رہے کہ حریم شاہ نے صندل خٹک کے خلاف گزشتہ ماہ مئی میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم میں ’پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ‘ کے تحت درخواست دائر کی تھی۔
حریم شاہ نے الزام عائد کیا تھا کہ صندل خٹک اور عائشہ ناز نے ان کی ذاتی ویڈیوز چرانے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کرکے انہیں بدنام کیا۔








