366

دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پولیس بنیادی سہولیات سے محروم

دہشت گردی کی نئی لہر کا مقابلہ کرنے والے ضلع خیبر کے پولیس کے آدھی سے زیادہ فورس بنیادی اسلحے سے محروم،

Hijrat Ali Afridi
تحریر: ہجرت علی آفریدی

صرف 38  فیصد پولیس اہلکاروں کے پاس سرکاری بندوقیں موجود ، 89 فیصد پولیس نفری بلٹ پروف جیکٹس نہیں  ملے،

خیبر پولیس

پولیس کے پاس صرف  4 فیصد پستولیں موجود ہیں پورے ضلع خیبر کے 9 پولیس اسٹیشنوں  پر  20مشین گنز موجود ہیں تین ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کے پاس مظاہروں اور جلسے جلوسوں میں پتھراؤ وغیرہ سے بچنے کیلئے کوئی حفاظتی سامان شیلڈ کیپ ہیلمٹ موجود نہیں

ابھی تک پولیس کیلئے آفیشل پولیس لائن موجود نہیں ہے اپریشن اور دیگر ضرورت کیلئے بلائے گئے پولیس اہلکاروں کی رہائش کا بندوبست نہیں ہے دہشت گردی کی نئی لہر کے باعث پولیس فورس کے جوان اپنی ذاتی بندوقیں گھروں سے لانے پر مجبور ہو گئے ہیں ضلع خیبر کے پولیس میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے

دہشت گردی کی لہر کا مقابلہ کرنے والے ضلع خیبر کی پولیس کو انضمام کے بعد تاحال بنیادی اسلحہ اور سازوسامان نہیں دی گئی تین ہزار سے زائد پولیس نفری کو پٹرولنگ کیلئے گاڑیاں دستیاب نہیں جس کے باعث زیادہ تر پولیس اہلکار اپنے ذاتی گاڑیوں میں  پٹرولنگ کرتے ہیں

ضلع خیبر کی پولیس فورس کے 38 فیصد اہلکاروں  کو اب تک سرکاری بندوقیں  دی گئی ہے جبکہ62 فیصد پولیس اہلکاروں  کو سرکاری بندوقیں نہیں  ملی ہے زرائع کے مطابق  پولیس فورس کے بیشتر جوان اپنے ساتھ اپنی ذاتی بندوقیں لانے پر مجبور ہوگئی ہے   ڈی پی او خیبر محمد عمران سے اس حوالے جب پوچھا گیا تو انہوں  نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع خیبر کے پولیس اہلکاروں  کو کافی مشکلات کا سامنا ہے

ان کا کہنا تھا کہ ضلع خیبر کے پولیس فورس کیلئے آفیشل پولیس لائن نہیں  ہے جس کی وجہ سے نفری کو ایک جگہ میں رکھنے یا باہر سے کوئی مشکل ہو تو  پولیس کو بروقت لانے  میں   مشکلات کا سامنا ہوتا ہے  
زرائع کے بقول جوانو ں کی حفاظت کیلئے خیبر پولیس فورس کے پاس صرف 380 بلٹ پروف جیکٹس موجود ہیں جو ان کی تناسب کے لحاظ سے 11 فیصد بنتی ہے

جس کی بناء پر پولیس فورس کے جوانوں  کو دوران ڈیوٹی خطرات کا سامناکرنا پڑتاہے اسکے علاوہ پولیس فورس میں بیشتر اہلکاروں  کا تعلق بوڑھوں اور بیمار افراد اور سروس چینچ کا ہے جن کا وعدہ حکومت نے ان کے ساتھ کیا تھا جو تاحال پورا نہ ہو سکا ہے یاد رہے کہ ضلع خیبر کی پولیس کی بیشتر چوکیاں چار دیوراری سے محروم ہیں زرائع کے بقول 170 پولیس اہلکار جن کا تعلق خیبر پولیس فورس سے ہیں پشاور صدر کینٹ ایریا میں واقع ڈی سی خیبر ہاؤس کی حفاظت پر معمور ہے

جس کی وجہ سے ضلع خیبر کی چوکیوں میں نفری کی کمی کا سامنا ہے یاد رہے کہ خیبر ہاؤس سیٹل ایریا اور کینٹ ایریا واقع ہے جہاں اتنی بڑے پیمانے پر سیکورٹی کا جواز پیدا نہیں ہوتا.

گززشتہ کئی ماہ سے ضلع خیبر  میں پولیس فورس کے جوانوں پر دوران ڈیوٹی یا گھر جاتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ حملے ہوچکے ہیں  جن  میں بیشتر پولیس فورس کے جوانوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے

جبکہ کئی اہلکار ذخمی بھی ہو چکے ہیں پولیس فورس کے جوانوں نے سی ٹی ڈی اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر ضلع خیبر  میں کئی پاریشن بھی کئے ہیں جن  میں اداروں  کو مطلوب ملزمان کی ہلاکت اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا چکی ہے اسکے علاوہ پولیس فورس نے منشیات سمیت دیگر  جرائم کے خلاف کامیاب کارروائیوں میں بھی ملک کی سلامتی کو کامیاب بنانے  میں   کردار ادا کیا ہے.  

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں