دہشت گردی کی نئی لہر کا مقابلہ کرنے والے ضلع خیبر کے پولیس کے آدھی سے زیادہ فورس بنیادی اسلحے سے محروم،

تحریر: ہجرت علی آفریدی
صرف 38 فیصد پولیس اہلکاروں کے پاس سرکاری بندوقیں موجود ، 89 فیصد پولیس نفری بلٹ پروف جیکٹس نہیں ملے،

پولیس کے پاس صرف 4 فیصد پستولیں موجود ہیں پورے ضلع خیبر کے 9 پولیس اسٹیشنوں پر 20مشین گنز موجود ہیں تین ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کے پاس مظاہروں اور جلسے جلوسوں میں پتھراؤ وغیرہ سے بچنے کیلئے کوئی حفاظتی سامان شیلڈ کیپ ہیلمٹ موجود نہیں
ابھی تک پولیس کیلئے آفیشل پولیس لائن موجود نہیں ہے اپریشن اور دیگر ضرورت کیلئے بلائے گئے پولیس اہلکاروں کی رہائش کا بندوبست نہیں ہے دہشت گردی کی نئی لہر کے باعث پولیس فورس کے جوان اپنی ذاتی بندوقیں گھروں سے لانے پر مجبور ہو گئے ہیں ضلع خیبر کے پولیس میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے
دہشت گردی کی لہر کا مقابلہ کرنے والے ضلع خیبر کی پولیس کو انضمام کے بعد تاحال بنیادی اسلحہ اور سازوسامان نہیں دی گئی تین ہزار سے زائد پولیس نفری کو پٹرولنگ کیلئے گاڑیاں دستیاب نہیں جس کے باعث زیادہ تر پولیس اہلکار اپنے ذاتی گاڑیوں میں پٹرولنگ کرتے ہیں
ضلع خیبر کی پولیس فورس کے 38 فیصد اہلکاروں کو اب تک سرکاری بندوقیں دی گئی ہے جبکہ62 فیصد پولیس اہلکاروں کو سرکاری بندوقیں نہیں ملی ہے زرائع کے مطابق پولیس فورس کے بیشتر جوان اپنے ساتھ اپنی ذاتی بندوقیں لانے پر مجبور ہوگئی ہے ڈی پی او خیبر محمد عمران سے اس حوالے جب پوچھا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع خیبر کے پولیس اہلکاروں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے
ان کا کہنا تھا کہ ضلع خیبر کے پولیس فورس کیلئے آفیشل پولیس لائن نہیں ہے جس کی وجہ سے نفری کو ایک جگہ میں رکھنے یا باہر سے کوئی مشکل ہو تو پولیس کو بروقت لانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے
زرائع کے بقول جوانو ں کی حفاظت کیلئے خیبر پولیس فورس کے پاس صرف 380 بلٹ پروف جیکٹس موجود ہیں جو ان کی تناسب کے لحاظ سے 11 فیصد بنتی ہے
جس کی بناء پر پولیس فورس کے جوانوں کو دوران ڈیوٹی خطرات کا سامناکرنا پڑتاہے اسکے علاوہ پولیس فورس میں بیشتر اہلکاروں کا تعلق بوڑھوں اور بیمار افراد اور سروس چینچ کا ہے جن کا وعدہ حکومت نے ان کے ساتھ کیا تھا جو تاحال پورا نہ ہو سکا ہے یاد رہے کہ ضلع خیبر کی پولیس کی بیشتر چوکیاں چار دیوراری سے محروم ہیں زرائع کے بقول 170 پولیس اہلکار جن کا تعلق خیبر پولیس فورس سے ہیں پشاور صدر کینٹ ایریا میں واقع ڈی سی خیبر ہاؤس کی حفاظت پر معمور ہے
جس کی وجہ سے ضلع خیبر کی چوکیوں میں نفری کی کمی کا سامنا ہے یاد رہے کہ خیبر ہاؤس سیٹل ایریا اور کینٹ ایریا واقع ہے جہاں اتنی بڑے پیمانے پر سیکورٹی کا جواز پیدا نہیں ہوتا.
گززشتہ کئی ماہ سے ضلع خیبر میں پولیس فورس کے جوانوں پر دوران ڈیوٹی یا گھر جاتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ حملے ہوچکے ہیں جن میں بیشتر پولیس فورس کے جوانوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے
جبکہ کئی اہلکار ذخمی بھی ہو چکے ہیں پولیس فورس کے جوانوں نے سی ٹی ڈی اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر ضلع خیبر میں کئی پاریشن بھی کئے ہیں جن میں اداروں کو مطلوب ملزمان کی ہلاکت اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا چکی ہے اسکے علاوہ پولیس فورس نے منشیات سمیت دیگر جرائم کے خلاف کامیاب کارروائیوں میں بھی ملک کی سلامتی کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا ہے.








