ایتھوپیا کا 12 ہزار سال بعد خاموش آتش فشاں پھٹ پڑا، راکھ کے بادل پاکستان تک پہنچ گئے
ادیس ابابا: ایتھوپیا میں 12 ہزار سال سے خاموش پڑا ہیلی گُبی آتش فشاں اچانک پھٹ پڑا،
جس کے نتیجے میں آسمان کی جانب اٹھنے والا دھوئیں اور راکھ کا ستون حیران کن طور پر 46 ہزار فٹ کی بلندی تک جا پہنچا۔

آتش فشاں کا مقام ایتھوپیا کے افار ریجن میں واقع ہے، جو دارالحکومت ادیس ابابا سے تقریباً 800 کلومیٹر دور ہے۔
ماہرین کے مطابق راکھ کے بادل تیزی سے مشرق کی جانب بڑھے اور کئی ممالک تک پھیل گئے۔

رپورٹس کے مطابق آتش فشانی راکھ کے بادل یمن، عمان، بھارت اور شمالی پاکستان تک پہنچ گئے ہیں،
جبکہ خصوصی فضائی مشاہدے میں یہ بھی بتایا گیا کہ گوادر کے جنوب میں تقریباً 60 ناٹیکل میل کے فاصلے تک راکھ کے بادل واضح طور پر دیکھے گئے
تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اس خطے میں آتش فشانی راکھ اتنی زیادہ بلندی تک براہِ راست رپورٹ ہوئی ہے۔
فضائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اتنی بلند سطح پر موجود آتش فشانی راکھ ہوائی جہازوں کے انجنوں اور فلائٹ آپریشن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
علاقائی اداروں نے موسم اور فضائی آلودگی سے متعلق نگرانی مزید سخت کردی ہے، جبکہ ماہرین اس غیر معمولی آتش فشانی سرگرمی کے مستقبل کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔








