275

ایران پولیس حراست میں خاتون کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے

ایران پولیس کی حراست میں کاتون کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے

مانیٹرنگ ڈیسک(9نیوز) تہران

مہسا امینی اپنے بھائی کے ساتھ سیر کرنے نکلی تھیں لیکن حجاب نہ پہننے کی وجہ سے پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ دو روز بعد تھانے میں ان کی موت ہوگئی۔ ایرانی صدر نے معاملے کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔

مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ذریعہ گرفتاری اور پھر ان پر مبینہ تشدد کے نتیجے میں ہلاکت کے خلاف سوشل میڈیا پر لوگوں نے سخت نکتہ چینی کی اور مظاہرے کے لیے سڑکوں پر بھی نکل آئے۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے جمعے کے روز 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کی تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔

مہسا امینی کو منگل کے روز اخلاقی پولیس نے اس وقت گرفتار کرلیا تھا جب حجاب کے سخت قوانین پر عمل نہ کرتے ہوئے انہوں نے مبینہ طورپر اپنا سر ڈھانپ نہیں رکھا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز حراست میں انہیں مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔

ایران کے ایک ہسپتال میں امینی زیر علاج ہیں

پولیس نے مہسا امینی کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے ساتھ کسی طرح تشدد کے الزامات کی تردید کی ہے۔ پولیس نے ایک کلوزڈ سرکٹ فوٹیج جاری کیا ہے جس میں امینی کو تھانے میں ایک پولیس افسر کے ساتھ بات کرنے کے لیے اپنی نشست سے اٹھنے کے فوراً بعد منہ کے بل گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد انہیں ایک اسٹریچر پر ڈال کر لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایران کے معروف وکیل سعید دہگان نے امینی کی موت کو ”قتل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امینی کے سر پر ڈنڈے مارے گئے جس کی وجہ سے ان کا سر پھٹ گیا۔

امینی کے اہل خانہ نے کہا کہ انہیں قلب کی کسی مرض کی کبھی کوئی شکایت نہیں رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا، ”جن حالات میں 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی حراست میں مشتبہ موت ہوئی ہے، اس میں انہیں مبینہ طور پر اذیتیں دی گئیں اور حوالات میں برا سلوک کیا گیا۔ اس مجرمانہ حرکت کی تفتیش کی جانی چاہئے۔‘‘

متعدد اراکین پارلیمان نے کہا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمان میں اٹھائیں گے جب کہ عدلیہ نے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے گی۔

اس دوران صدر ابراہیم رئیسی نے وزیر داخلہ احمد واحدی کو ”واقعے کی ہنگامی نوعیت کے سبب اس پر فوری توجہ دیتے ہوئے اس کی تفتیش‘‘ کرانے کا حکم دیا ہے۔

ایران کے شرعی قانون کے مطابق خواتین کو گھروں سے باہرنکلنے پر سروں کو لازمی طور پر ڈھانپ کر رکھنا ہوتا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو عوامی سرزنش، جرمانے یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اخلاقی پولیس ایسے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کے لیے موجود رہتی ہے۔

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں