قتل کے واقعات اور دیگر سنگین جرائم کی بیخ کنی ہمارا کام ہے: سید شہزاد ندیم بخاری
نیوز ڈیسک(9نیوز) راولپنڈی

سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی سید شہزاد ندیم بخاری نے پریس کلب راولپنڈی میں صحافیوں سے میٹ دی پریس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قتل کے واقعات اور دیگر سنگین جرائم کی بیخ کنی ہمارا کام ہے

ضلعی انتظامیہ سمیت تمام اداروں کو کلیئر پیغام ہے کہ جتنی نفری درکار ہو آگاہ کریں بعض ادارے کام اگر نہیں کرتے تو ہم کیا کر سکتے ہیں ہم ہر ایشو میں تعاون دینے کو تیار ہیں ڈسٹرکٹ انفورسمنٹ کے نام سے پروگرام کا آغاکیا ہے ۔
خوداحتسابی نظام کے تحت بہت سے افسران کے خلاف اینٹی کرپشن میں کیس ٹیک اپ کرائے ہیں جیسے معاشرے میں ہر چیز پر فیکٹ نہیں اسی طرح ڈیپارٹمنٹ میں بھی ہو سکتا ہے جو ملازمین شہید یا فوت ہوگئے انکی فیملی کے ساتھ مسلسل رابطے اور دیکھ بھال کر رہے ہیں
میرے پاس کسی کا بھی ایشو ہو بغیر چٹ کے اس کو ترجیحی بنیاد پر سنتا ہوں افسران کو بھی یہ میسج ہے کہ مشکلات میں آپ کے پاس، آنے والے اللہ کی رحمت ہے کہ وہ آپکی طرف انھیں بھیجتا ہے اس چیز کی یقین دہانی کرواتا ہوں کہ عوام کی مشکلات دستیاب وسائل سے حل کریں گے۔
اشتہاری مجرموں کی گرفتاری ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے آپ کے ساتھ میرا خصوصی تعلق رہے گا منفی اور مثبت سوچ ہر انسان میں ہے مگر، اچھے لوگوں ملیں تو ایک اچھی ٹیم بن کر کام کرنا چاہیے ماضی میں بھی صحافی برادری سے قریبی تعلق، رہا اور، اب بھی رہے گا آپ لوگ، حق سچ کیلئے کھڑے ہوتے ہیں میں آپ کا شکرگزار ہوں منشیات، ودیگر جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن کریں گے آج سے آپکو پولیسنگ نظر آئے گی میرا آپ سے وعدہ ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ یہ ختم ہو جائے گا۔
پولیس کے پاس مقدمات کے اندراج کیلئے آئی درخواستوں کو قانون کے مطابق دیکھا جاتا ہے پولیس میں کرپشن پر سخت ایکشن ہوگاکسی بھی جرم کے مقدمہ کا چالان مقررہ وقت میں پراسیکیوشن برانچ کو بھجوانے پر میٹنگ ہورہی ہے
میٹ دی پریس میں ان کے ہمراہ صدر نیشنل پریس کلب انور رضا انچارچ پریس کلب شکیلہ جلیل ۔اے ایس پی سٹی ماہم خاب بھی موجود تھیں اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ مستقبل میں بھی وہ ایسی ملاقات کے سلسلے کو جاری رکھیں گے۔
پولیس ایک منظم ادارہ ہےجس پر سوسائٹی میں لا اینڈ آرڈر کے ہر طرح کے ایشوز پر فوکس رکھتا ہے جس پررسک نہیں لیا جاتا سوسائٹی میں عوام کوبےشمار مسائل کا سامنا ہے گھریلو تنازعات, جائیداد لین دین کے امور بھی پولیس کے پاس آتے ہیں.زمین کے تنازعات میں زیادہ لڑائیاں اور قتل ہوتے ہیں








