300

بنوں میں فیملی پارکس کی مخالفت کی اصل وجوہات

بنوں فیملی پارک کی مخالفت کی اصل وجوہات

ویب ڈیسک (9نیوز) بنوں

بنوں چونکہ پاکستان کا ایک تاریخی شہر ہے لیکن بدقسمتی سے تاریخی طور پر تاریک ہی رہا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ بنوں میں عرصہ دراز تک نہ ہی صوبائی حکومت اور لوکل گورنمنٹ نے اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ نے اس سیکٹر کی سوشل ڈیویلپمنٹ پر کوئی خاص توجہ دی ہے۔

پچھلے سال پی ٹی آئی حکومت نے بنوں میں پہلی بار فیمل پارک کا افتتاح کیا تاکہ یہاں پر رہنے والے فیملز کیلئے تفریح کا بندوبست کیا جاسکے۔ یہ بظاہر ایک اچھی ابتداء تھی یہاں کے فیملز کے انٹرٹینمنٹ کیلئے اور سیر و تفریح کیلئے۔

لیکن

یہاں پر بسنے والے ٹھرکی مرد حضرات بشمول انتہائی شدت پسند ملاؤں، مسلے کو مذید بگاڑنے والے ملَکان اور خبث زدہ ذہنیت کے حامل نوجوانوں نے اس کی مخالفت کرنا شروع کردی اور بتایا یہی گیا کہ فیملی پارک بے حیائی کی جڑ ہے اور اس طرح کے اقدامات کا مقصد محض بےحیائی کو پھیلانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

لیکن اصل مسلہ بےحیائی کا نہیں ہے…. !!

اسکی وجہ یہ ہے کہ پارک تو لڑکوں کیلئے بھی بنا ہے اور صرف ایک نہیں پورے دو پارکس بنی ہیں۔ اگر پارک ہی بے حیائی کی پھیلاؤ کا اصل وجہ ہے تو پھر تو لڑکوں کے پارکس بھی بند ہونے چاہئے ۔

لیکن چونکہ یہاں کے معززین کی اکثریت بچہ باز ہے اور خاص طور پر استعمال ہونے والے لڑکوں کو میک اپ کروا کر پارک لے جا کر وہاں پر شُغل کروایا جاتا ہے اور وہ بھی باقاعدہ اپنے لڑکے کو بن ٹن کر اور تیار کرواکر اور بالوں کو ویکس کیذرئعے صاف کرواکر.

لیکن اس پر تو نہ ہی کبھی فیس بک پر کسی کو بات کرتے ہوئے دیکھا ہے، نہ کسی چوک میں کھڑے نوجوانوں کو اور نہ ہی ممبر پر بھیٹے ملّا صاحب کو۔

لیکن فیملی پارک کو تالا لگانے اور اسکی بندش کیلئے ہر بندہ پوسٹ کررہا ہے اور بتارہا ہے کہ اس سے بے حیائی پھیلتی ہے۔

مسلہ بے حیائی کے پھیلاؤ کا نہیں ہے اصل مسلہ حقوق کا ہے۔ ان لوگوں کو ڈر ہے کہ اگر بنوں کے فیملز گھر سے باہر جاکر اُن کو اپنے حقوق کا ادراک ہوا تو پھر تو یہاں کے پیٹریاٹک نظام کا ستیاناس ہونے والا ہے اور پھر تو ہر لڑکی اپنے حقوق کی آواز اُٹھائے گی جو یہاں کے مردوں کو یہ برداشت نہیں کیونکہ اس سے تو ان کا بزنس چلتا ہے،

یہ دوہرا معیار ختم ہونا چاہئے۔ اگر پارک واقع میں بے حیائی کے پھیلاؤ کا واحد ذریعہ ہے جو کہ اصل میں ہے نہیں، تو پھر لڑکوں کے پارکس کیساتھ ساتھ بچہ بازی پر بھی پابندی لگ جانی چاہئیے۔ جو کہ صرف مشکل نہیں بلکہ ناممکن لگ رہی ہے کیونکہ یہاں پر ہر تیسرا بندہ بچہ باز بنا پھر رہا ہے

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں