ایک باکمال استاد کہ جو بہت سی خوبیوں کا جامع ہوتا ہے،

اپنے جس شاگرد میں جس خوبی کی ممتاز صلاحیت پاتا ہے اُسی خوبی میں اُس کو باکمال بناتا ہے۔
جس میں فقیہ بننے کی زیادہ صلاحیت پاتا ہے اُسے فقیہ بناتا ہے، جو مقرر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اُسے کامیاب مقرر بناتا ہے اور جس میں مصنف بننے کی صلاحیت غالب ہو اُسے باکمال مصنف ہی بناتا ہے۔
تو ہمارے آقا و مولی احمدِ مجتبیٰ ﷺ نے اپنے جس صحابی میں جس خوبی کی ممتاز صلاحیت پائی اسی وصفِ خاص میں اسے کامل بنایا۔ لہذا اپنے پیارے صحابی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ میں صدیق بننے کی صلاحیت دیکھ کر اسی وصف میں انکو ممتاز و کامل بنایا۔
صدیق ہونا ایسا وصف ہے جو بہت سی خوبیوں کا جامع ہے، اس وصفِ خاص کے سب سے زیادہ مستحق صرف ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ذاتِ گرامی تھی اسی لئے وہ اس سے سرفراز فرماۓ گئے۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا اسمِ گرامی “عبداللّٰہ”
کنیت “ابوبکر”
اور القاب “صدیق و عتیق ہیں۔
صدیق کا معنیٰ”بہت زیادہ سچ بولنے والا۔ زمانہ جاہلیت ہی میں آپ اس لقب سے مُلَقَّب ہوگئے تھے کیونکہ آپ ہمیشہ سچ ہی بولتے تھے۔
عتیق کا معنیٰ ہے “آزاد”
رسولِ کریمﷺ نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو بشارت دیتے ہوۓ فرمایا:
“اَنتَ عَتِیقُ مِّنَ النَّارِ
یعنی تو نارِ دوزخ سے آزاد ہے”
اسی لیے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ لقب ہوا۔(تاریخ الخلفاء)
آپ رضی اللہ تعالی عنہ قریشی ہیں اور ساتویں پُشت میں شجرہ نسب رسولُ اللہﷺ کے خاندانی شجرے سے مل جاتا ہے۔
زمانہ جاہلیت میں بھی آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی بتوں کی عبادت نہ کی تھی، آپ ہمیشہ اسکے خلاف رہے، اپنی برادری میں سب سے زیادہ مالدار،مروت و احسان کا مجسمہ تھے،قوم میں بہت معزز سمجھے جاتے تھے، مہمانوں کی خوب میزبانی فرماتے،آپکا شمار رؤساۓ قریش میں ہوتا تھا اور لوگ آپ سے مشورہ لیا کرتے۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ قریش کے اُن گیارہ لوگوں میں سے ہیں جن کو ایامِ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں میں عزت و بزرگی حاصل رہی، آپ عہد جاہلیت میں “خون بہا” اور جرمانے کے مقدمات کا فیصلہ کیا کرتے تھے جو اس زمانہ کا بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔
حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ وہ ہستی ہیں جن کو سب سے زیادہ رسولِ کریمﷺ کی رفاقت نصیب ہوئی، آپ رضی اللہ تعالی عنہ اسلام لانے کے وقت سے برابر ہمیشہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر رہے ، سفر و حضر میں رفیق رہے ، تمام غزوات میں رسول اللہﷺ کی ہمرکابی کا شرف آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل رہا۔ رسولِ کریمﷺ ہی کی رفاقت میں سفرِ ہجرت فرمایا اور اللہﷻ اور رسول اللہﷺ کی رضا مندی میں اپنا مال اہل و عیال سب کو تنہا چھوڑ کر رسول اللہﷺ کی رفاقت اختیار کی جس پر افتخارِ عظیم سے مشرف ہوۓ جو ہمیشہ کے لئے آپ ہی کا امتیازِ خاص ہے۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ فضيلت بھی حاصل ہے کہ آپ کی چار نسلیں مرتبہ صحابیت سے سرفراز ہوئیں، آپ کے والدِ گرامی بھی صحابی، آپ بھی صحابی، آپ کے دونوں بیٹے صحابی، آپ کے پوتے محمد بن عبد الرحمن جن کا لقب ابو عتیق ہے وہ بھی صحابی۔
مسندِ امام احمد میں مولیٰ علی کرم اللہ وجھہُ الکریم سے روایت ہے کہ:
“اس امت میں نبی کریمﷺ کے بعد سب سے بہتر ابو بکر و عمر ہیں”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے،ارشاد فرمایا:
“ابھی تم پر وہ شخص ظاہر ہوگا کہ اللہﷻ نے میرے بعد اس سے بہتر و بزرگ تر کسی کو نہ بنایا اور اُس کی شفاعت انبیاء کرام کے مانند ہوگی، ہم حاضر ہی تھے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لاۓ، رسول اللہﷺ نے قیام فرمایا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو پیار کیا اور گلے لگایا۔(تاریخ بغداد)
2سال 7ماہ مسند خلافت پر رونق افروز رہ کر 22 جمادی الاخریٰ 13 ہجری پیر کے دن آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات ہوئی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور رسولِ کریمﷺ کے پہلوۓ مبارکہ میں دفن ہوۓ۔
اللّٰہ کریم کی ان پر کروڑہا رحمتیں نازل ہوں، صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ تعالی عنہ کے صدقے میں اللّٰہ کریم ہم تمام مسلمانوں کو سچائی کا راستہ اپنانے کی توفیق عطا فرماۓ۔
آمین
تحریر : عقیلہ رضا








