304

الہلال برصغیر پاک و ہند پہلا کا با تصویر اخبار تھا جس کی اشاعت کی تعداد 52 ہزار تھی

ان کا اصل نام محی الدین احمد تھا

مانیٹرنگ ڈیسک (9نیوز) لاہور

ابوالکلام آزاد کی فائل فوٹو

انگریز حکومت نے 1914 میں اس اخبار پر پابندی لگا دی تھی

الہلال برصغیر پاک و ہند کا پہلا با تصویر اخبار تھا جس کی اشاعت کی تعداد 52 ہزار تھی

مولانا ابوالکلام آزاد کی پیدائش 11 نومبر 1888 میں مکہ معظمہ میں ہوئی۔ ان کا اصل نام محی الدین احمد تھا مگر ان کے والد مولانا سید محمد خیرالدین بن احمد انہیں فیروز بخت کے نام سے پکارتے تھے۔

ابوالکلام آزاد کی والدہ عالیہ بنت محمد کا تعلق ایک علمی خانوادے سے تھا۔ آزاد کے نانا مدینہ کے ایک معتبر عالم تھے جن کا شہرہ دور دور تک تھا۔

اپنے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آزاد مصر کی مشہور درسگاہ جامعہ ازہر چلے گئے جہاں انہوں نے مشرقی علوم کی تکمیل کی۔

عرب سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تو کلکتہ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ یہیں سے انہوں نے اپنی صحافتی اور سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔

کلکتہ سے ہی 1912 میں ’الہلال‘ کے نام سے ایک ہفتہ وار اخبار نکالا یہ پہلا با تصویر سیاسی اخبار تھا

اور اس کی تعداد اشاعت تقریباً 52 ہزار تھی۔ اس اخبار میں انگریزوں کی پالیسیوں کے خلاف مضامین شائع ہوتے تھے

اس لیے انگریز حکومت نے 1914 میں اس اخبار پر پابندی لگا دی۔ اس کے بعد مولانا نے ’البلاغ‘ کے نام سے دوسرا اخبار جاری کیا یہ اخبار بھی آزاد کی انگریز مخالف پالیسی پر گامزن رہا۔

مولانا آزاد کا مقصد جہاں انگریزوں کی مخالفت تھا وہیں قومی ہم آہنگی اور ہندو مسلم اتحاد پر ان کا پورا زور تھا۔ انہوں نے اپنے اخبارات کے ذریعے قومی، وطنی جذبات کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔

مولانا ابولکلام آزاد نے ’پیغام‘ اور’لسان الصدق‘جیسے اخبارات و رسائل بھی شائع کیے اور مختلف اخبارات سے بھی ان کی وابستگی رہی جن میں ’وکیل‘ اور ’امرتسر‘ قابل ذکر ہیں۔

آپ مدبرانہ اور محققانہ سوچ کے حامل تھے
آپ کسی کی تقلید میں قید نہیں تھے
آپ کا ایک قول “میں سیاہ کو سفید کہنے سے انکاری ہوں” روزِ روشن کی طرح آج بھی نئے اذہان پر اپنے نقوش برقرار رکھا ہوا ہے

آپ سیاست میں کانگریس کے نظریات کے حامل تھے
آپ کا طرزِ تعلیم آج بھی سرحد پار میں نافذ العمل ہے
از مختصر کہ آپ بےمثال تھے

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں