آئی جی اسلام آباد کے کیپٹل پولیس ہسپتال کے قیام سمیت 45 انتہائی اہم اقدامات

آئی جی اسلام آباد پولیس انتہائی دانشمندی اور حکمت عملی سے حالات کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں
آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے بطور آئی جی اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد جہاں اسلام آباد میں اس وقت جاری امن و عامہ صورتحال سے انتہائی حکمت عملی سے نمٹا اور شہر کی موثر سکیورٹی کو یقینی بنایا وہیں اسلام آباد کیپیٹل پولیس فورس کے لئے متعدد نئے اقدامات اٹھائے،

اسی طرح سیف سٹی پروجیکٹ کی تنظیم نو کی گئی ، آئی جی اسلام آباد نے اپنی تعیناتی کے قلیل وقت میں 45اہم ترین اقدامات اٹھائے جن میں سب سے بڑا اقدام فور س کی ویلفئیر کے متعلق ہے جس میں شہدا ءاور دوران سروس وفات پانے والے ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی کی مد میں 1.24بلین روپے جاری کروائے گئے،

شہداء اور متوفیان کی فیملیز اور دیگر پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کیلئے 17.5ملین روپے تقسیم کیے گئے۔
شہدا کے لواحقین کی بھرتی مکمل ہوئی اور کوئی کیس زیر التوا نہیں ہے 9500 پولیس ملازمین کی تنخواہوں، ڈیلی اور راشن ا لاﺅنس میں اضافہ کر دیا کر دیا گیا۔آئی جی سے لیکر سپاہی تک 30افسران کو بہادری کے اعزازات سے نوازا گیا۔ 5 ایس پیز عارضی بنیادوںپر،11 انسپکٹرز ، 28 سب انسپکٹرزکو اگلے عہدوں پر ترقی دی گئی۔
پاکستان کے پہلے کیپیٹل پولیس ہسپتال کے قیام کی منظوری دی گئی جس کی کل لاگت 5.864 بلین روپے ہیں،ملازمین کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے ای ہیلتھ سسٹم متعارف کرایا گیا۔پولیس لااینڈ آرڈر اور ایگزیکٹیو الاﺅنس کی منظوری کا وعدہ کو عملی جامہ پہنانے کو کوششیں جاری ہیں۔
اس کے علاوہ سیف سٹی پراجیکٹ کے ذریعے 500 نئے کیمروں کی تنصیب کی گئی ہے جسکے بعد تعداد 1900سے بڑھ کر 2400ہو گئی ہے ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس ای پیپر کی روزانہ اشاعت شروع کی گئی،پولیس آرڈر 2002کا نفاذکیا گیا،
5 مئی 2022 سمیت1010امن و عامہ کی صورتحال کو بغیر کسی نا خوشگوار واقعے کے پیشہ ورانہ طور پرسنبھالا گیا۔ پکار 15پر ہنگامی ردعمل کا وقت 8منٹ بہتر ہوا۔ریسپانس ٹائم اور ایگل اسکواڈ کو بہتر بنایا گیا۔
بین الصوبائی جرائم پیشہ بلال ثابت گینگ اور اس کے ساتھیوں کا خاتمہ کیا گیا۔ لانگ مارچ کو پیشہ ورانہ اور پرامن طریقے سے نمٹا گیا۔تفتیش کے نظام میں بہتری لائی گئی اورملکی قوانین کی روشنی میں ایس ایچ او کے دفتر کو حقیقی اور عملی طور پر بااختیار بنایا گیا،
جرائم کی بہتر روک تھام کے لیے تھانوں کے اندر کیپٹل انوسٹی گیشن برانچ کی تنظیم نوکی گئی۔فوجداری نظام کو بہتر کر نے کے لئے کورٹ کمپلائنس یونٹ (سی سی یو) عدالتی احکامات کے عملدرآمد کیلئے قیا م عمل میں لایا گیا۔
تمام تھانوں میں صنفی جرائم کے انسداد کیلئے جینڈر کرائم یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔عدالت میںزیر سماعت مقدمات کے ملزمان کی الیکٹرانک پیشی کو یقینی بنایا گیا تاکہ معزز عدالت اور عدالتی سیکورٹی کا قیمتی وقت بچایا جا سکے۔سزا کی شرح کو بہتر بنانے اور مجرموں کے خاتمے کے لیے ڈکیتی اور رابری یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
تفتیش کو بہتر بنانے کے لیے 10 تھانوں میں خواتین تفتیشی افسران کو تعینات کیا گیا،عوامی سہولیات کی فراہمی فوجداری مقدمات کا عدالتوں پر بوجھ کم کر نے کیلئے SDPO کے دفاتر میں متبادل تنازعات کے حل (ADR) مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا،
وفاق کی سطح پر پولیس پبلک ریلیشن برانچ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ایف آئی آر کے اندراج کے عمل کو آسان بنا دیا گیا۔جدید آلات کے ذریعے تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا،سیکیورٹی ڈویڑن میں داخلی و خارجی راستوں پر الیکٹر انک انٹری / ایگزٹ سسٹم نصب کیا گا تاکہ ملک کے کلیدی دفاتر کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنا یاجا سکے۔1668 کانسٹیبلان کی نئی بھرتی جاری ہے۔ کل 141739 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
یوتھ انٹرن شپ پروگرام کا آغازکیا گیا، اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے 111پوسٹوں پر مشتمل سپیشل پولیس یونٹ قائم کیا جا رہا ہے،کیپیٹل پولیس کالج کا قیا م عمل میں لایا گیااور ٹریننگ کو بہتر کرنے کیلئے کمانڈ ڈی آئی جی رینک کے افسر کے حوالے کی گئی۔
امن عامہ کے قیام کیلئے2000 ایف سی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ انداز میں تربیت مکمل کی گئی۔سپیشل پروٹیکیشن یونٹ ، ایس سی پی ججز سیکورٹی ، پارلیمنٹ ہاﺅس کی سیکورٹی اور خواتین اینٹی رائٹ یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا، تفیشی افسران کی استعداد کار بڑھانے کیلئے کیپیٹل پولیس کالج میں کورسز کا انعقاد جاری ہے
موجودہ خواتین پولیس افسران کی تیزی سے ترقی ،ٹرانس جینڈرز کیلئے بھرتی کے مواقع بھی ان اقدامات میں شامل ہیں ، اسی طرح 3نئے تھانوں کا قیام عمل میں لایا گیاجس میں پھلگراں، کرپااورسنگجانی شامل ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق پولیس خدمت مراکز F-6اورH-11کو سولر انرجی پر شفٹ کر دیا گیا۔پولیس اسٹیشن بنی گالہ کے لیے زمین کی الاٹمنٹ منظور کروائی گئی،انڈورفائرنگ رینج کا قیام عمل میں لایا گیا۔
آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے کہا کہ فورس کی بہتری اور جدت لانے کے لئے اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا اور اسلام آباد کیپیٹل پولیس کو دیگر محکموں کے لئے ایک رول ماڈل کے طور پر جانا جائے گا۔








